پاکستان میں انتخابات کی کہانیاں

پاکستان میں ہونے والے طرح طرح کے انتخابات کی کہانی

پہلا حصہ

پاکستان کے انتخابات کی تاریخ پاکستان سے بھی پہلے شروع ہوتی ہے جب دسمبر انیس سو پینتالیس میں جداگانہ بنیادوں پر ہندوستان کی مرکزی آئین ساز اسمبلی کے انتخابات ہوئے اور کانگریس نے اسی فیصد سے زائد غیر مسلم نشستیں اور مسلم لیگ نے تیس کی تیس مخصوص مسلم نشستیں پاکستان کے نام پر جیت لیں۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ نے صوبہ سرحد کو چھوڑ کر دیگر مسلم اکثریتی صوبوں میں بھی اچھی خاصی نشستیں حاصل کرلیں۔ لیکن یہ انتخابات ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر نہیں تھے۔ بلکہ ووٹر بننے کے لئے صاحبِ جائیداد یا ٹیکس دھندہ ہونے کی شرط تھی۔ہر ایرا غیرا ووٹ نہیں دے سکتا تھا۔

پاکستان کی پہلی انہتر رکنی قانون ساز اسمبلی انہی مسلم اور چند مقامی غیر مسلم نمائندوں کو ملا کر بنائی گئی تھی۔ ان میں سے چوالیس کا مشرقی بنگال سے، سترہ کا مغربی پنجاب سے ، چار کا سندھ سے، تین کا صوبہ سرحد سے اور ایک کا کوئٹہ میونسپلٹی سے تعلق تھا (اس وقت بلوچستان کا وجود نہیں تھا۔اور ریاست قلات پاکستان میں شامل نہیں تھی)۔

پاکستان بننے کے بعد پہلے انتخابات مارچ انیس سو اکیاون میں پنجاب اسمبلی کی ایک سو ستانوے نشستوں کے لیے ہوئے۔جن میں سات جماعتوں نے حصہ لیا اور ووٹرز لسٹ میں صرف ایک ملین ووٹر تھے۔ لیکن ان انتخابات میں ووٹنگ کی شرح تیس فیصد سے بھی کم رہی۔ دسمبر انیس سو اکیاون میں سرحد اسمبلی کے، مئی تریپن میں سندھ اسمبلی کے انتخابات ہوئے جن میں مسلم لیگ کو اکثریت حاصل ہوئی۔

البتہ اپریل انیس سو چون میں جب مشرقی پاکستان اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو بنگالی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد جگتو فرنٹ کے ہاتھوں مسلم لیگ کو پہلی بھر پور انتخابی زک پہنچی کیونکہ مسلم لیگ بنگلہ کو قومی زبان کا درجہ دینے کے حق میں نہیں تھی۔

انیس سو اکیاون سے چون تک کے عرصے میں ہونے والے ان انتخابات کا معیار کیا تھا اس کا اندازہ جھرلو کی اصطلاح سے ہو سکتا ہے جو پہلے پہل پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلی کی نشاندھی کے لیے استعمال ہوئی۔ انیس سو چھپن میں انتخابی اصلاحات کی تجاویز دینے والے سرکاری کمیشن نے اعتراف کیا کہ پاکستان بننے کے بعد سات برس کے عرصے جتنے بھی صوبائی انتخابات ہوئے وہ جعل سازی، فراڈ اور مذاق سے زیادہ نہیں تھے۔

اور پھر انہی منتخب صوبائی اسمبلیوں نے انیس سو چون میں پاکستان کی دوسری مجلسِ قانون ساز تشکیل دی جس نے ون یونٹ نظام کے تحت انیس سو چھپن کا پہلا آئین بنایا۔ یہ اسمبلی اسی ارکان پر مشتمل تھی یعنی ملک کے دونوں حصوں سے چالیس چالیس ارکان لیے گئے تھے۔ آئین کے تحت ملک میں پہلی مرتبہ ایک تین رکنی الیکشن کمیشن تشکیل دیا۔

لیکن اس سے پہلے کہ یہ الیکشن کمیشن انتخابات کرا پاتا۔ صدر میجر جنرل سکندر مرزا نے جنرل ایوب خان کی مدد سے سات اکتوبر انیس سو اٹھاون کو مارشل لا لگا کر آئین، اسمبلی اور الیکشن کمیشن کو ہی لپیٹ دیا۔اور پھر بیس روز بعد جنرل ایوب نے سکندر مرزا کی بساط لپیٹ دی۔بہت سے سیاستداں اور اسمبلی ارکان کو سات برس کے لیے نا اہل قرار دے دیا گیا۔ایک اور آئینی کمیشن بنا جس نے سن باسٹھ کا صدارتی آئین بنایا۔

انیس سو باسٹھ کے آئین کے تحت ایک سو چھپن ارکان پر مشتمل جو قومی اسمبلی تین برس کے لیے وجود میں آئی، اس کا چناؤ عوام نے نہیں بلکہ صدر ایوب کے بنیادی جمہوریتی نظام کے تحت عوامی ووٹ سے بننے والے اسی ہزار بیسک ڈیموکریٹس نے کیا۔ بعد ازاں آئین میں ترمیم کرکے اسمبلی کے ارکان کی تعداد دو سو اٹھارہ اور الیکٹورل کالج ( بیسک ڈیموکریٹس) کے ارکان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تک کر دی گئی۔

انہی بیسک ڈیمو کریٹس نے جنوری انیس سو پینسٹھ کے صدارتی انتخاب میں فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان کو ایک اور مدت کے لئے صدر منتخب کیا۔ایوب خان اس دوڑ میں مسلم لیگ کنونشن کے حمائیت یافتہ تھے۔جبکہ فاطمہ جناح کی حمائیت کمبائینڈ اپوزیشن پارٹیز نامی پانچ جماعتی اتحاد کررھا تھا۔الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کے لئے ایک ماہ کی انتخابی مہم چلانے کی اجازت دی۔

لیکن جب اسٹیبلشمنٹ کو احساس ہوا کہ عام لوگ فاطمہ جناح کو سننے کے لیے جوق در جوق آ رہے ہیں تو پھر الیکشن کمیشن نے ہر فریق کے لیے زیادہ سے زیادہ نو پروجیکشن میٹنگز منعقد کرنے کی حد لگا دی ۔جن میں صرف الیکٹورل کالج کے بیسک ڈیموکریٹس یا صحافی شریک ہو سکتے تھے۔عوام کو ان اجلاسوں میں آنے کی ممانعت تھی۔

عجیب بات ہے کہ ایوب خان جنہیں عام طور پر ایک لبرل اور سیکولر شخصیت سمجھا جاتا تھا انہوں نے کئی علماء سے عورت کے سربراہ مملکت ہونے کے خلاف فتویٰ لیا۔جبکہ جماعتِ اسلامی نے کھل کر محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی۔ ایوب خان کو یہ سہولت بھی حاصل تھی کہ وہ باسٹھ کے آئین کے تحت اس وقت تک صدر رہ سکتے تھے جب تک انکا جانشین منتخب نہ ہوجائے۔

چنانچہ ایوب خان بحثیت صدر پوری سرکاری مشینری اور ہر طرح کا دباؤ برتنے کے بعد حسبِ توقع بھاری اکثریت سے فاطمہ جناح کو ہرانے میں کامیاب ہوگئے۔اس کے نتیجے میں سیاسی حلقوں میں جو مایوسی پھیلی اس نے تین برس بعد ایوب خان کے خلاف بھرپور ملک گیر ایجی ٹیشن کی بنیاد رکھ دی۔

دوسرے حصہ

انیس سو ستر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے شفاف اور غیر جانبدار انتخابات قرار دیا جاتا ہے۔

پچیس مارچ انیس سو انہتر کو جب جنرل یحیٰی خان نے ایوب خان کو ایجی ٹیشن کے نتیجے میں آئین سمیت معزول کر کےون یونٹ توڑ دیا تو ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر دیا کہ پہلی دفعہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ایک آدمی ایک ووٹ کے اصول کے تحت اکتوبر انیس سوستر میں انتخابات منعقد ہوں گے جن میں کسی بھی سیاسی جماعت کو حصہ لینے کی آزادی ہوگی۔

جسٹس عبدالستار کی سربراہی میں ایک انتخابی کمیشن تشکیل دیا گیا۔اکیس برس سے زائد عمر کے پانچ کروڑ ستر لاکھ ووٹروں کی فہرستیں بنیں۔لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت قومی و صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندی ہوئی اور اٹھائیس سیاسی جماعتوں نے یکم جنوری انیس سو ستر سے تین سو نشستوں پر مشتمل قومی اسمبلی کے لئے انتخابی مہم شروع کی۔ نئی اسمبلی میں ایک سو باسٹھ نشستیں مشرقی پاکستان کے لئے اور ایک سو اڑتیس مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کے لئے مختص کی گئیں۔

لیکن کوئی ایک جماعت بھی ایسی نہیں تھی جس نے ساری نشستوں پر انتخاب لڑا ہو۔عوامی لیگ نے سب سے زیادہ یعنی ایک سو ستر امیدوار کھڑے کئے جن میں سے ایک سو باسٹھ مشرقی پاکستان سے انتخاب لڑ رہے تھے۔

عوامی لیگ کے بعد امیدواروں کی تعداد کے حساب سے دوسری بڑی پارٹی جماعتِ اسلامی تھی جس نے قومی اسمبلی کے لئے ایک سو پچپن امیدوار کھڑے کئے۔خان عبد القیوم خان کی مسلم لیگ نے ایک سو تینتیس ، کنونشن مسلم لیگ نے ایک سو چوبیس اورکونسل مسلم لیگ نے ایک سو انیس امیدوار کھڑے کیے۔ جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے ایک سو بیس امیدواروں کو ٹکٹ دیئے۔ جن میں سے ایک سو تین پنجاب اور سندھ میں اور سترہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں تھے۔مشرقی پاکستان سے پیپلز پارٹی کا ایک بھی امیدوار نہیں کھڑا ہوا۔

انیس سو ستر کے انتخابات کے نتیجے میں مغربی پاکستان کے نمائندوں پر مشتمل جو پارلیمنٹ وجود میں آئی۔اس نے سب سے اہم کام یہ کیا کہ آئین بنایا اور یہ آئین چودہ اگست انیس سو تہتر سے نافذ ہوگیا۔ایک دن بعد ایمرجنسی لگا دی گئی اور بنیادی حقوق معطل کردیئے گئے۔اس پارلیمنٹ کی پانچ سالہ مدت دسمبر انیس سو ستتر تک تھی تاہم وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو انٹیلی جینس ایجنسیوں اور انکے چند قریبی رفقا نے مشورہ دیا کہ حالات قبل از وقت انتخابات کے لئے سازگار ہیں کیونکہ حزبِ اختلاف انتشار میں مبتلا ہے۔

چنانچہ وزیرِ اعظم نے سات جنوری انیس سو ستتر کو اعلان کیا کہ قومی اسمبلی کے انتخابات سات مارچ کو اور صوبائی اسمبلیوں کے دس مارچ کو ہوں گے۔اس اعلان کے چار روز بعد جب یہ خبر آئی کہ حزبِ اختلاف کی نو جماعتوں نے پاکستان قومی اتحاد بنا لیا ہے تو حکومت ششدر رہ گئی۔قومی اتحاد نے بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کے خلاف بطور احتجاج صوبے میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔حکمراں پیپلز پارٹی کے انیس امیدوار بشمول وزیرِ اعظم بلا مقابلہ کامیاب ہوگئے۔لیکن یہ سب جن حالات میں منتخب ہوئے اس سے بھٹو حکومت کے بارے میں کوئی بہتر سیاسی تاثر نہیں ابھرا۔

تیسرا حصہ

سات مارچ کو قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے اور جب نتائج آنے شروع ہوئے تو سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے کسی کو بھی یقین نہ آیا۔پیپلز پارٹی نے ایک سو پچپن نشستیں جیت لیں جن میں بلوچستان کی ساتوں نشستیں بھی شامل تھیں حالانکہ وہاں فوجی آپریشن جاری تھا۔جبکہ پاکستان نیشنل الائنس یا پی این اے کو چھتیس نشستیں ملیں۔

سرکاری طور پر کہا گیا کہ ٹرن آؤٹ تریسٹھ فیصد رھا اور کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے اٹھاون فیصد ووٹ پیپلز پارٹی کو پڑے۔ان حالات میں پی این اے نے دس مارچ کے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کردیا اور شہروں میں حکومت کے خلاف بھرپور تحریک شروع ہوگئی۔خاصی خونریزی کے بعد جولائی کے پہلے ہفتے میں پی این اے اور بھٹو حکومت میں سمجھوتہ ہوگیا کہ آنے والے اکتوبر میں ایک نمائندہ عبوری حکومت کے تحت دوبارہ انتخابات کرائے جائیں گے۔لیکن پانچ جولائی کی صبح جنرل ضیا الحق نے مارشل لاء نافذ کردیا۔

انیس سو ستتر کے انتخابات کے بارے میں اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سجاد احمد جان ( وسیم سجاد کے والد) نے بعد میں یہ تبصرہ کیا کہ حکمراں جماعت کے امیدواروں نے اپنی مقتدر پوزیشن اور سرکاری مشینری کے اندھا دھند استعمال سے انتخابی عمل کو تباہ کردیا۔

فروری انیس سو پچاسی میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے سائے میں ملک میں پہلی بار غیر جماعتی پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے۔

اس سے قبل ضیاء الحق جو نوے دن میں اقتدار کی عوام کو منتقلی کے وعدے پر مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنے تھے انہوں نے دو مرتبہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرکے انہیں منسوخ کردیا تھا۔کیونکہ بقول ان کے وہ ایسی انتخابی فضاء قائم کرنا چاہتے تھے جس میں مثبت نتائج حاصل ہوسکیں اور منتخب نمائندوں کا قبلہ بھی درست ہو۔

حزبِ اختلاف کے اتحاد ایم آر ڈی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ریفرنڈم کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ شاعرِ عوام حبیب جالب نے ریفرنڈم کے دن کے بارے میں کہا:

شہر میں ہو کا عالم تھا جن تھا یا ریفرنڈم تھا

تاہم اسلام آباد سے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ ریفرنڈم میں ڈالے گئے نوے فیصد سے زائد ووٹ صدر ضیا الحق کے حق میں پڑے ہیں۔ریفرنڈم کے بعد صدر نے اعلان کیا کہ قومی اور صوبائی انتخابات با لترتیب پچیس اور اٹھائیس فروری انیس سو پچاسی کو منعقد ہوں گے۔ انتخابات کو غیر جماعتی رکھنے کے لئے ایک آئینی ترمیم کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔ ہر امیدوار کے لیے لازم تھا کہ وہ پچاس افراد کے تائیدی دستخط ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش کرے۔اس مقصد کے لیے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ مجریہ انیس سو باسٹھ میں ترمیم کی گئی۔ ایم آر ڈی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ اسکے باوجود ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد نے حصہ لیا۔ سرکاری طور پر قومی اسمبلی کے لیے پڑنے والے ووٹوں کی شرح تقریباً چون فیصد اور صوبائی پولنگ کی شرح ستاون فیصد سے زائد رہی۔

ان انتخابات کے نتیجے میں خاصے نئے چہرے سامنے آئے۔ محمد خان جونیجو کو وزیرِ اعظم چنا گیا۔ پارلیمنٹ نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے ضیاء الحق کے تمام مارشل لاء احکامات کو آئینی تحفظ دیا اور انہیں اٹھاون ٹو بی کے تحت پارلیمنٹ اور حکومت کو ختم کرنے کے صوابدیدی اختیارات بھی دے دیئے۔ اس کے علاوہ اس غیر جماعتی پارلیمنٹ میں اس مسلم لیگ کا جنم ہوا جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی چہرہ بنی ہوئی ہے۔

سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو صدر جنرل ضیاء الحق اپنے غیر جماعتی نظام سمیت طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوگئے اور سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان نے قائم مقام صدارت اور جنرل مرزا اسلم بیگ نے فوج کی کمان سنبھالی۔

نئی حکومت نے سولہ نومبر کو قومی اور انیس نومبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کا اعلان کیا۔ سن ستتر کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ پیپلز پارٹی باقاعدہ کسی قومی انتخاب میں حصہ لے رہی تھی۔اس خدشے کے پیشِ نظر کہ پیپلز پارٹی اکثریت سے کامیاب نہ ہوجائے، اسٹیبلشمنٹ نے پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ اور مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کی قیادت میں ایک نو جماعتی اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا۔ نتیجہ ایک معلق پارلیمنٹ کی صورت میں نکلا۔ پیپلز پارٹی کو ترانوے اور آئی جے آئی کو چون ، ایم کیو ایم کو تیرہ، جے یو آئی (ایف) کو سات اور اے این پی کو دو نشستیں ملیں۔ ووٹنگ کی شرح تینتالیس فیصد بتائی گئی۔ کل اڑتیس جماعتوں نے انتخابات میں شرکت کی۔

صدر غلام اسحاق خان نے ان شرائط کے تحت بے نظیر بھٹو کو حکومت سازی کی دعوت دی کہ وہ افغان اور کشمیر پالیسی اور ایٹمی پالیسی میں مداخلت نہیں کریں گی۔ خارجہ پالیسی کے تسلسل کے لئے صاحبزادہ یعقوب علی خان کو وزیرِ خارجہ کا قلمدان دیں گی اور صدارتی انتخاب میں غلام اسحاق خان کی حمایت کریں گی۔بے نظیر بھٹو نے ایم کیو ایم، فاٹا ارکان اور کچھ آزاد امیدواروں کی مدد سے حکومت تشکیل دی اور کسی مسلمان ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ پھر پاکستانی سیاست نے یہ دن بھی دیکھا کہ نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں جنرل ضیاء الحق کے دستِ راست غلام اسحاق خان پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی کے مشترکہ امیدوار کے طور پر پانچ برس کی مدت کے لیے صدر منتخب کرلیے گئے۔ لیکن بے نظیر اور غلام اسحاق خان میں مسلح افواج کے سربراہوں اور ججوں کی تقرری کے معاملے پر اختلافات اتنے بڑھے کہ چھ اگست انیس سو نوے کو صدر نے اٹھاون ٹو بی کے تحت بے نظیر حکومت کو بدعنوانی اور نااہلی کا مرتکب قرار دے کر برخاست کردیا۔

بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد جب ان کے سیاسی مخالف غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگراں وزیرِ اعظم بنایا گیا تو اسی وقت ہوا کے رخ کا اندازہ ہوگیا کہ چوبیس اکتوبر کو ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ اقتدار کی ہوا کو کس طرف لے جانا چاہتی ہے۔ چنانچہ جب انتخابی نتائج سامنے آنے شروع ہوئے تو بات واضح ہوگئی۔ نواز شریف کے اسلامی جمہوری اتحاد کو قومی اسمبلی کی ایک سو چھ اور پیپلز پارٹی کو چوالیس نشستیں ملیں۔ ووٹنگ کی شرح تقریباً چھیالیس فیصد بتائی گئی۔اڑتالیس جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ متعدد غیر ملکی مبصرین نے انتخابی عمل کو غیر شفاف قرار دیا۔

لیکن اٹھاون ٹو بی کے اختیارات سے مسلح صدر اور نئے وزیرِ اعظم نواز شریف کے درمیان جلد ہی بالکل اسی انداز کی کشمکش شروع ہوگئی جو بے نظیر حکومت کے زوال کا سبب بنی تھی۔ یعنی مسلح افواج کے سربراہوں اور ججوں کی تقرری کا معاملہ۔ چنانچہ جب یہ اختلافات سڑک پر آ گئے اور ایوانِ وزیرِ اعظم اور ایوانِ صدر دو متحارب کیمپوں میں تبدیل ہوگئے تو غلام اسحاق خان نے ڈیڑھ برس میں دوسری دفعہ آئینی وار کیا اور انیس اپریل انیس سو ترانوے کو نواز شریف حکومت برطرف کر کے میر بلخ شیر مزاری کو نگراں وزیرِ اعظم نامزد کردیا اور پارلیمانی انتخابات کے لیے چودہ جولائی کی تاریخ مقرر کردی۔ نگراں حکومت میں پیپلز پارٹی کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی اور آصف زرداری سمیت پیپلز پارٹی کے کئی وزراء نے حلف اٹھا لیا۔

چوتھا حصہ

نواز شریف نے اٹھاون ٹوبی کے تحت برطرفی کے اقدام کو صدر کی بدنیتی قرار دیتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ۔

سپریم کورٹ نے چودہ مئی کو برطرف حکومت بحال کردی اور صدر غلام اسحاق خان کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ تاہم اس فیصلے کے نتیجے میں کاروبارِ حکومت منجمد ہوگیا۔ چنانچہ فوج کے سربراہ جنرل وحید کاکڑ نے وزیرِ اعظم اور صدر کو رضامند کرلیا کہ وہ بحران کے خاتمے کے لئے سبکدوش ہوجائیں۔ اس سمجھوتے کے تحت معین قریشی نئے نگراں وزیرِ اعظم اور غلام اسحاق خان نگراں صدر بن گئے۔ چھ اکتوبر کو قومی اسمبلی اور نو اکتوبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ایم کیو ایم نے اپنے خلاف فوجی آپریشن کے سبب انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔

کراچی اور حیدرآباد میں امن و امان کا آپریشن شدید تر ہوتا چلا گیا۔ بیس ستمبر انیس سو چھیانوے کو وزیرِ اعظم کے سگے بھائی مرتضی بھٹو کے قتل سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ جو وزیرِ اعظم اپنے بھائی کو نہ بچا سکی وہ عام آدمی کا تحفظ کیسے کرے گی۔ بالاخر یہ افواہیں پھیلنے لگیں کہ حکومت چند دن کی مہمان ہے اور پھر پانچ نومبر انیس سو چھیانوے کو ایوانِ صدر سے ایک فیکس وزیرِ اعظم ہاؤس بھیج دیا گیا کہ حکومت اور اسمبلیاں توڑ دی گئی ہیں۔ملک معراج خالد کو نگراں وزیرِ اعظم بنا دیا گیا ہے جو تین فروری انیس سو ستانوے کو انتخابات کروائیں گے۔

اگرچہ فروری ستانوے کے انتخابات اناسی سیاسی جماعتوں نے شرکت کی تاہم ووٹنگ کی شرح پچھلے تمام انتخابات کے مقابلے میں بہت کم رہی یعنی تقریباً چھتیس فیصد۔ البتہ پیپلز پارٹی کا گراف اتنا نیچے گرا کہ اسکی نشستیں نواسی سے کم ہو کر صرف اٹھارہ رہ گئیں جبکہ مسلم لیگ نواز کی نشستیں تہتر سے بڑھ کر ایک سو سینتیس تک پہنچ گئیں۔ اتنی اکثریت سے جیتنے کے بعد نواز شریف کا پہلا وار صدر فاروق لغاری پر ہوا جنہیں اٹھاون ٹو بی کے اختیارات سے محروم کرکے پوپلا صدر بنا دیا گیا۔

دوسرا وار بے نظیر بھٹو اور انکے شوہر پر ہوا جن کے پیچھے سینٹر سیف الرحمان کی سربراہی میں احتساب بیورو چھوڑ دیا گیا۔ تیسرا وار فوج پر ہوا جب جنرل جہانگیر کرامت کو نیشنل سیکورٹی کونسل کی تجویز پیش کرنے پر گھر بٹھا دیا گیا۔ چوتھا وار پارلیمنٹ پر ہوا جب چودھویں اور پندرہویں ترمیم کے ذریعے اسے ربر سٹمپ میں تبدیل کرنے کی کوشش ہوئی۔

پانچواں وار عدلیہ پر ہوا جب چیف جسٹس سجاد علی شاہ سے جان چھڑانے کے لئے سپریم کورٹ کی عمارت پر حملہ ہوا اور برادر ججز دو کیمپوں میں بٹ گئے۔ اسکے نتیجے میں صدر فاروق لغاری اور سجاد علی شاہ کو گھر جانا پڑا اور رفیق تارڑ کو صدر بنا کر شریف حکومت نے اپنی دانست میں آخری قلعہ بھی فتح کرلیا۔ اور پھر چھٹا وار نئے چیف آف سٹاف جنرل پرویز مشرف پر اس وقت ہوا جب وہ ہوا میں معلق تھے۔لیکن یہ وار خود نواز شریف حکومت پر پڑگیا اور بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو پارلیمنٹ سمیت پورے سسٹم کی بساط الٹ گئی۔

جنرل پرویز مشرف نے آتے ہی آئین معطل کر کے سات نکاتی اصلاحی پروگرام پیش کیا۔سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کو نئے انداز میں استوار کرنے اور ملک کو نواز شریف اور بے نظیر بھٹو جیسے مبینہ کرپٹ سیاستدانوں سے نجات دلانے، شفاف احتساب کی روایت ڈالنے اور اختیارات کی مرکزیت ختم کرنے اور نئی قیادت ابھارنے اور معاشرے کو اعتدال پسند اور روشن خیال بنانے کا عزم ظاہر کیا۔پہلے مرحلے میں ڈپٹی کمشنری کے فرسودہ نظام کے بجائے بلدیاتی سطح پر ناظموں کا سسٹم متعارف کروایا گیا تاکہ ایک وفادار سیاسی طبقہ تشکیل دیا جاسکے۔ پھر متعدد لیگی دھڑوں کو پولٹیکل انجینرنگ کے ذریعے ایک منظم سیاسی جماعت مسلم لیگ ق کی شکل دی گئی۔ پھر خود کو ایک جائز آئینی صدر بنوانے کے لئے آئین سے بالا صدارتی ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا۔

تیس اپریل دو ہزار دو کو ہونے والے اس ریفرنڈم کے لئے جیلوں، ہسپتالوں، پٹرول پمپوں، فیکٹریوں، مارکیٹوں، سکولوں اور دیگر سرکاری عمارات میں ستاسی ہزار پولنگ سٹیشن بنائے گئے۔ جس میں کوئی بھی شخص محض اپنے نام کی شناختی دستاویز دکھا کر ووٹ ڈال سکتا تھا۔ چاہے اسکا نام الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ میں ہے یا نہیں۔اس ریفرنڈم میں ایک سوال پوچھا گیا۔

کیا آپ بلدیاتی نظام کی بقا، جمہوریت کے قیام ، اصلاحات کے تسلسل، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے خاتمے اور قائدِ اعظم کے خواب کی تکمیل کے لئے صدر جنرل پرویز مشرف کو پانچ برس کے لئے صدرِ مملکت منتخب کرنا چاہیں گے۔

حزبِ اختلاف کے اتحاد اے آر ڈی نے لوگوں سے ریفرنڈم کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔مگر الیکشن کمیشن کے مطابق اٹھتر ملین ووٹروں میں سے ستر فیصد نے ووٹ ڈالے اور ان میں سے اٹھانوے فیصد نے صدر مشرف کے حق میں فیصلہ دیا۔

ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد سترہویں آئینی ترمیم کے تحت دس اکتوبر دو ہزار دو کو پارلیمانی اور صوبائی انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا۔ ووٹر کی عمر اکیس سال سے کم کرکے اٹھارہ سال کی گئی۔ قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد بڑھا کر تین سو بیالیس کی گئی۔ ان میں خواتین کے لئے چھیاسٹھ اور اقلیتوں کے لئے آٹھ نشستیں مختص کی گئیں اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں سات سو اٹھائیس کی گئیں۔

اقلیتوں کو انیس سو ستتر کے بعد پہلی دفعہ جنرل نشستوں پر ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔ عوامی نمائندگی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے سزا یافتہ افراد کا امیدوار بننا ممنوع قرار پایا ۔امیدوار کی کم از کم تعلیمی استعداد بی اے مقرر کی گئی۔ان انتخابات میں ستتر جماعتوں نے حصہ لیا اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ووٹنگ کی شرح تقریباً بیالیس فیصد رہی۔

نتائج کا اعلان کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی گئی۔ نتائج کے مطابق مسلم لیگ ق نے قومی اسمبلی کی ایک سو اٹھارہ، پیپلز پارٹی نے اسی، ایم ایم اے نے انسٹھ، مسلم لیگ نواز نے اٹھارہ اور ایم کیو ایم نے سترہ، نیشنل الائنس نے سولہ، مسلم لیگ فنگشنل نے پانچ، مسلم لیگ جونیجو نے تین، پی پی شیر پاؤ نے دو اور باقی جماعتوں نے سات نشستیں حاصل کیں اور یوں ایک اور معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی۔

صدرِ مملکت نے نئی اسمبلی کا اجلاس اس وقت تک طلب نہیں کیا جب تک پیپلز پارٹی کے دس ارکانِ اسمبلی ٹوٹ کر صدارتی کیمپ میں نہیں آگئے۔دس میں سے چھ کو وزیر بنایا گیا۔ فلورکراسنگ کے قانون کو معطل کردیا گیا۔اسکے باوجود مسلم لیگ ق کی قیادت میں مخلوط حکومت کے وزیرِ اعظم میر ظفر اللہ جمالی ایک ووٹ کی اکثریت سے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو سکے۔

پانچواں حصہ

دو ہزار دو کے انتخابات کے موقع پر یوں لگتا تھا کہ فوج اور سیاست کی ساری ڈوریاں جنرل پرویز مشرف کے مضبوط ہاتھوں میں ہیں اور آئندہ جب بھی انتخابات ہوئے ان میں مشرفی بلدیاتی نظام حکمرانوں کی انتخابی حکمتِ عملی میں ترپ کا پتہ ہوگا۔مگر کیا کیا جائے کہ طوفان ہمیشہ تب آتا ہے جب سمندر انتہائی پرسکون ہوتا ہے۔ چھبیس اگست دو ہزار چھ کو وہ طوفان نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کی شکل میں آ ہی گیا۔اس دن کے بعد سے قسمت کے ستارے ایسے پلٹے کہ اونٹ پر بیٹھے مشرف کو بھی کتے نے کاٹ لیا۔ذہانت سے پھینٹے ہوئے کارڈ بکھرتے چلے گئے۔

نو مارچ دو ہزار سات کو جانے کس کے مشورے پر مشرف نے اپنے ہی مقرر کردہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کو برطرف کر دیا۔ان کی بحالی کی تحریک چل ہی رہی تھی کہ تین جولائی کو لال مسجد پر چڑھائی ہوگئی اور اس کے بعد یہاں سے وہاں تک خودکش حملوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو پھر نا تھم سکا۔

اس کے بعد بھی پرویز مشرف کا خیال تھا کہ جاتی ہوئی پارلیمنٹ انہیں اگلے پانچ برس کے لیے صدر منتخب کر لے گی اور وہ وردی اتارے ہوئے سویلین صدر کے طور پر پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت کر سکیں گے۔چنانچہ ملک کو صاف ستھری حکومت دینے کا خواب بیچنے والے پرویز مشرف نے خود کو اس حال پر پہنچا دیا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ این آر او کرنا پڑ گیا۔اس کے بعد خود کو صدر منتخب کروانے کے آئینی اثرات سے چھٹکارا پانے کے لیے انہیں ایمرجنسی لگا کے ججوں کو نظربند کرنا پڑا۔اور قسمت کی مکڑی نے ان کے گرد اپنا جالا مزید تنگ کر دیا۔

چار و ناچار انہیں انتخابات کا اعلان کرنا پڑا۔اور بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی شکل میں جن دو سیاسی حریفوں کو وہ انتخابی عمل سے باہر رکھنا چاہتے تھے وہ یکے بعد دیگرے پاکستان میں لینڈ کرگئے اور پرویز مشرف سوائے بے بسی سے یہ لینڈنگ دیکھنے کے کچھ نا کر سکے۔

اگرچہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز چارٹر آف ڈیموکریسی کے دستخطی تھے لیکن انتخابی میدان کھلتے ہی دونوں کو نا صرف چارٹر آف ڈیموکریسی بلکہ آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے قائم کردہ وہ سیاسی اتحاد بھی بھول گیا جس کے پلیٹ فارم سے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز اور جمعیت علمائے اسلام نے مشرف حکومت کے تحت ہونے والے انتخابات میں حصہ نا لینے کا عہد کیا تھا۔اتحاد میں شامل تحریکِ انصاف ، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور جماعتِ اسلامی آخری وقت تک اپنے بائیکاٹ کے عہد پر قائم رہیں۔جبکہ بلوچستان کی قوم پرست تنظیمیں تو اکبر بگٹی کے قتل کے بعد سے ہی انتخابی عمل میں حصہ نا لینے کا عندیہ دے چکی تھیں۔

بے نظیر بھٹو نے این آر او کے سائے میں زور و شور سے انتخابی مہم شروع کر دی۔مگر ستائیس دسمبر کو لیاقت باغ راولپنڈی کے باہر ان کے منظر سے ہٹ جانے کی خبر سب ہی کا دل دہلا دیا۔انتخابی عمل بے معنی ہو کر رھ گیا۔ایسے موقع پر فوج چاہتی تو ماضی کی طرح انتخابی عمل کو غیر معینہ مدت کے لیے آگے بڑھا سکتی تھی لیکن ملک میں امن و امان کی سنگین صورتِ حال اور بیرونی دباؤ نے فوجی قیادت کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رکھا۔اور اس نے سیاسی عمل کو لپیٹنے یا مداخلت کے عمل میں فریق بننا گوارہ نہیں کیا۔

دو ہزار آٹھ کے انتخابات سے قبل امن و امان کے عمومی حالات بھی بہت خراب تھے۔اس کا اندازہ یوں ہو سکتا ہے کہ اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کو جب بے نظیر بھٹو کراچی میں اتریں تب سے اٹھارہ فروری دو ہزار آٹھ تک خود کش حملوں میں پانچ سو سترہ افراد ہلاک ہوئے۔لیکن انتخابی عمل نہیں رکا۔

حسبِ توقع پاکستان پیپلز پارٹی ایک سو بائیس نشستیں لے کر سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کے طور پر ابھری۔مسلم لیگ نواز نے بانوے ، مسلم لیگ ق نے 53، ایم کیو ایم نے پچیس ، عوامی نیشنل پارٹی نے تیرہ اور دیگر جماعتوں نے پندرہ نشستیں حاصل کیں ۔جبکہ اٹھارہ نشستیں آزاد امیدواروں نے جیتیں۔مذہبی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلسِ عمل جس نے دو ہزار دو کے انتخابات میں ساٹھ نشستیں حاصل کی تھیں۔دو ہزار آٹھ کے انتخابات سے زرا پہلے فوت ہوگئی۔شائد جن ہاتھوں نے اس اتحاد کو تخلیق کیا تھا ان ہاتھوں نے ایم ایم اے کی کمر سے ہاتھ اٹھا لیا۔

اچھی بات یہ ہوئی کہ ان انتخابات میں خواتین نے پہلے کی نسبت زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔اکہتر خواتین امیدواروں نے جنرل نشستوں پر دو بدو مقابلہ کیا۔

اتنخابات کے بعد پیپلز پارٹی نے وسیع تر مفاہمتی پالیسی کا نعرہ لگایا اور سوائے مسلم لیگ ق ( عرف قاتل لیگ) ہر ایک کو اقتدار کی دعوتِ شیراز کا نیوتا بھیجا۔تاہم مسلم لیگ ن سے اس کا رومانس بہت دیر تک نا چل پایا اور آگے چل کر اسے مسلم لیگ ق کا دامن پکڑنا پڑا۔

رہے پرویز مشرف تو اٹھارہ فروری کے بعد وہ صدارتی محل میں اکیلے ہی گنگناتے رہے اور چند ماہ بعد انہیں گارڈ آف آنر دے کر طیارے میں حسرتوں سمیت سوار کروا دیا گیا۔اگلے پانچ برس میں عام آدمی کے پاس جمہوریت تو آگئی لیکن ہاتھ اور جیب پہلے سے زیادہ خالی ہوگئے۔

تو یہ ہے پاکستان میں ہونے والے طرح طرح کے انتخابات کی کہانی۔

اسی بارے میں