شیر کے نعرے، تیر اور پتنگ بجھے بجھے

Image caption قومی اسمبلی میں حلف برداری کے دوران پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومینٹ کے اراکین بجھے بجھے نظر آئے

پاکستان کی نومنتخب چودھویں قومی اسمبلی کے تین سو اراکین نے سنیچر کو حلف اٹھا لیا ہے اور سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی صبح ہوگا۔

مولانا فضل الرحمٰن اور عمران خان جو تین تین حلقوں سے کامیاب ہوئے ہیں، انہوں نے حلف نہیں اٹھایا۔

سنیچر کو قومی اسمبلی کی گیلریاں مہمانان خاص و عام سے کھچا کھچ بھری ہوئیں تھیں۔ پریس گیلری میں بھی غیر معمولی رش نظر آیا اور پاؤں رکھنے کی جگہ نہ تھی۔

مقررہ وقت سے اسمبلی کا اجلاس تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا اور جیسے ہی میاں نواز شریف چوہدری نثار علی خان کے ہمراہ ایوان میں نمودار ہوئے تو گیلریوں میں بیٹھے مہمان اور مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے کھڑے ہوکر تالیاں اور ڈیسک بجا کر ان کا پرجوش خیر مقدم کیا۔

میاں صاحب مسکراتے ہوئے اور ہاتھ ہلاتے رہے اور پرویز مشرف کے دور میں وزیراعظم رہنے والے میر ظفراللہ جمالی جو حال ہی میں آزاد حیثیت میں انتخاب جیت کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے ہیں، ان سے ملے۔ بعد میں وہ نامزد اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کی نشست پر گئے اور ان سے ہاتھ ملایا۔

انیس سو ننانوے کے بعد پہلی بار میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی میں قدم رکھا تو ان کے حامیوں نے نعرے لگائے کہ ’دیکھو دیکھو کون آیا۔۔۔شیر آیا شیر آیا‘۔ جب میاں نواز شریف کو رجسٹر پر دستخط کے لیے بلایا گیا تو ایوان ’وزیراعظم نواز شریف‘کے نعروں سے گونج اٹھا۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنما تو صف اول میں بیٹھے لیکن دوسرے اراکین اردو کے حروف تہجی کے حساب سے ایوان میں بیٹھے۔ کئی اراکین کو اپنی نشست ڈھونڈنے میں دشواری ہوئی۔

سابق قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے نو منتخب اراکین سے حلف لیا اور جب انہوں نے کہا کہ ’میں پاکستان کی وفادار رہوں گی‘ تو کچھ مرد اراکین نے بھی وفادار رہوں گا کے بجائے رہوں گی، پڑھا اور غلطی سے خود کو مذکر کے بجائے مؤنث کہہ گئے۔

شیخ رشید، دانیال عزیز، محمود خان اچکزئی، اعجاز الحق سمیت کچھ اراکین گزشتہ اسمبلی میں نہیں تھے مگر اب منتخب ہو کر آئے ہیں۔ رضا حیات ہراج جو آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے ہیں وہ بھی کافی سرگرم نظر آئے۔

ان کے بارے میں مسلم لیگ (ق) کے سرکردہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آزاد حیثیت میں منتخب ہونے کے بعد ان کی جماعت میں شامل ہوں گے اور یہی وجہ تھی کہ ان کے مقابلے میں کوئی امیدوار نہیں کھڑا کیا گیا اور پیپلز پارٹی سے بھی درخواست کی کہ وہ وہاں کسی کو ٹکٹ نہ دیں، لیکن انہوں نے وفا نہیں کی۔

موجودہ قومی اسمبلی میں اٹھارہ سیاسی جماعتوں کو نمائندگی حاصل ہے۔ پانچ بڑی جماعتوں میں اب تک حاصل کردہ نشستوں کی تعداد کے اعتبار سے ترتیب وار مسلم لیگ (ن) 176، پاکستان پیپلز پارٹی 39، پاکستان تحریک انصاف35، متحدہ قومی موومنٹ 23 اور جمیعت علماء اسلام (ف) 14 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ جبکہ دیگر جماعتوں کی نشستیں سنگل ہندسے میں ہیں۔ جبکہ آٹھ اراکین آزاد ہیں۔

Image caption انیس سو ننانوے کے بعد پہلی بار میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی میں قدم رکھا تو ان کے حامیوں نے نعرے لگائے

علی گوہر خان مہر اور ان کے چھوٹے بھائی اور سابق وزیراعلیٰ سندھ علی محمد خان مہر سندھی ٹوپی پہن کر آئے اور حلف اٹھایا۔ موجودہ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر دو بھائیوں کی یہ پہلی جوڑی ہے۔ ایاز سومرو اور رمیش لال سندھی ٹوپی کے ساتھ اجرک بھی پہن کر آئے۔

تاحال مسلم لیگ (ن) نے سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور وزراء کے نام سامنے نہیں آئے اور ایسا لگتا ہے کہ میاں نواز شریف بھی آصف علی زرداری کی رازداری پالیسی پر عمل پیرا ہیں کہ اپنے پتے آخری وقت پر شو کریں۔

ہاں البتہ میاں نواز شریف نے اپنی ’کچن کابینہ‘ کے لوگوں سے کابینہ میں محکموں کے بارے میں تین تین چوائس تحریری طور پر منگوائی ہیں۔ اسحٰق ڈار اور احسن اقبال نے وزارت خارجہ کو اپنی اولین ترجیح ظاہر کی ہے۔ جبکہ مشاہداللہ خان اطلاعات، خواجہ آصف وزارتِ پانی و بجلی، چوہدری نثار علی خان پیٹرولیم کے ممکنہ وزیر ہو سکتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں حلف برداری کے دوران پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین بجھے بجھے نظر آئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے اراکین بہت خوش خوش دکھائی دیے۔

اسی بارے میں