چودہ اسمبلیاں اور چوبیس وزیراعظم

پاکستان کی تاریخ میں جہاں پہلی بار اقتدار ایک جمہوری حکومت سے دوسری منتخب حکومت کو منتقل ہوا ہے وہیں مسلم لیگ ن کے رہنما میاں نواز شریف نے تیسری بار وزیراعظم کا عہدہ سنبھال کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

11 مئی کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف ملک کے ملک کے چوبیسویں وزیراعظم ہیں۔

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں آنے والے 24 میں سے 6 نگراں وزیراعظم تھے۔ ملک میں فوجی مداخلت اور صدر اور وزیراعظم کےتعلقات میں تناؤ کی وجہ سے ایک کے علاوہ کوئی بھی اپنی عہدے کی آئینی مدت مکمل نہ کر سکا۔

60 برسوں میں جہاں 20 وزرائے اعظم آئے وہاں 25 برسوں تک وزیراعظم کے عہدے کا عملی طور پرکوئی وجود نہ رہا۔

قیام پاکستان کے پہلے دس برسوں میں سات وزرائےاعظم تبدیل ہوئے اس عرصہ میں لیاقت علی خان واحد وزیراعظم تھے جو ،سب سے زیادہ مدت چار سال تک وزرات عظمٰی کے عہدے پر فائز رہے۔

نوابزادہ لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے۔ انہیں 15اگست 1947 کو وزیراعظم چنا گیا لیکن 16 اکتوبر 1951 کو انہیں اس وقت گولی مار کر ہلاک کردیا گیا جب وہ لیاقت باغ میں ایک جلسئہ عام خطاب کررہے تھے۔

لیاقت علی خان کی ہلاکت کے بعد اس وقت کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے اپنا عہدہ چھوڑ کر سترہ اکتوبر انیس سو اکیاون کو وزارتِ عظمٰی کا منصب سنبھال لیا۔وہ تقریبا دو برس تک اس عہدے پرفائز رہے اور سترا اپریل 1953 کو اس کے وقت کے گورنر جنرل غلام محمد نے انہیں برطرف کردیا۔

محمد علی بوگرہ پاکستان کے تیسرے وزیراعظم تھے جو 17 اپریل 1953 سے 11 اگست 1955 تک اس منصب پرفائز رہے ۔گورنر جنرل پاکستان غلام محمد نے ان سے استعفیْ لیا تھا۔محمد علی بوگرا وزیر اعظم بننے سے پہلے امریکہ میں سفیر تھے۔

Image caption نوابزادہ لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے

چودھری محمد علی 12اگست کو پاکستان کے چوتھے وزیراعظم مقرر ہوئے اور ان کے دور حکومت میں 23 مارچ 1956 کو ملک کا پہلا آئین بھی بنا تاہم چودھری محمد علی نئے آئین کے چند ماہ بعد ہی 12 ستمبر 1956 کو ایک سال ایک ماہ تک وزارتِ عظمٰی پرفائز رہنے کے بعد اس عہدے سے الگ ہوگئے۔

پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے جنہوں نے اپنی عہدے کی آئینی مدت پوری کی۔

پاکستان کے پہلے آئین کے بعد دو سال کی مدت میں چار وزرائے اعظم تبدیل ہوگئے۔حسین شہید سہروردی نے 12 ستمبر 1956 میں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا اور ایک سال ایک ماہ تک عہدے سے فائزہ رہنے کے بعد ان کو عہدے سے ہٹادیا گیا جس کے بعد ابراہیم اسماعیل چندریگر وزیراعظم بنے لیکن گورنر جنرل سکندر مرزا سے اختلافات کے باعث انہیں دو ماہ بعد ہی اپنے عہدے سے مستٰعفی ہونا پڑا۔

پاکستان میں جس وقت مارشل لا لگا کر آئین کو منسوخ کیا تو اس وقت ملک کے وزیراعظم فیروز خان نون تھے ۔وہ سولہ دسمبر انیس سو ستاون سے سات اکتوبر اٹھاون تک وزیراعظم کے عہدے پر رہے۔

انیس سو اٹھاون میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد آئین منسوخ ہونے کے ساتھ وزیر اعظم کا عہدہ بھی ختم ہوگیا اور 1962 میں اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان نے نیا آئین متعارف کرایا جس میں پارلیمانی نظام حکومت کو ختم کر کے اس کی جگہ صدارتی نظام رائج کردیا گیا تاہم یہ آئین بھی 1973 میں منسوخ کردیا گیا۔

13 برس کے وقفے کے بعد جب وزیراعظم کا عہدہ بحال کیا گیا تو نورالامین کو وزیراعظم مقرر کیا گیا لیکن مشرقی پاکستان کی علیٰحدگی کے چار روز بعد نورالامین 13 دنوں تک وزیراعظم رہنے کے بعد اس عہدے سے الگ ہوگئےاور ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ نائب صدر بن گئے اور وزیراعظم کا منصب پھر ختم ہوگیا۔

1985 میں محمد خان جونیجو وزیراعظم بنے

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد 14اگست 1973 کا نیا آئین وجود میں آیا اور ملک میں ایک مرتبہ پھر پارلیمانی نظام حکومت رائج کردیا گیا اور ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم منتخب ہوئے۔ وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے جنہوں نے اپنی عہدے کی آئینی مدت پوری کی۔

ذوالفقار علی بھٹو دو مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے اور پانچ جولائی انیس سو ستتر کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء کر ان کی حکومت کو برطرف کردیا اور چار اپریل انیس سواناسی کو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔

ضیاءالحق کے مارشل لا اور آئین کی معطلی کی وجہ سے وزیراعظم کا عہدہ ایک مرتبہ پھر متروک ہوگیا اور لگ بھگ سات برس سے زائد عرصہ کے بعد ملک میں آئین بحال ہوا تو وزیراعظم کا عہدہ بھی بحال ہوگیا اور 23 مارچ 1985 کو محمد خان جونیجو وزیر اعظم بنے۔

جنرل ضیاء الحق نے آئین کی بحالی سے پہلے اس میں ترمیم کی جس سے صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار مل گیا۔اس صدارتی اختیار کا پہلا شکار محمدخان جونیجو ہوئےاور ان کی حکومت 29 مئی سنہ 1988 کو ختم ہوگئی۔

جنرل ضیاء الحق نے جونیجو کی حکومت تحلیل کرنے کے بعد نگران کابینہ تو تشکیل دی لیکن نگران وزیراعظم کا تقرر نہیں کیا گیا جو پاکستانی تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ ہے۔

بینظیر پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم

سنہ اٹھاسی کے انتخابات میں بینظیر بھٹو پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں تاہم ان کی حکومت بھی اٹھارہ ماہ بعد ہی اٹھاون ٹو بی کا شکار ہوگئی۔ملک میں نئے انتخابات تک نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ اور اس وقت کے قائد حزب اختلاف غلام مصطفیْ جتوئی کو تین ماہ کی مدت کے لیے نگران وزیراعظم بنادیاگیا۔

نوے کے انتخابات میں نواز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے لیکن غلام اسحاق خان نے اختلافات کی بناء پر ان کی حکومت کو اٹھارہ اپریل انیس سوترانوے کو تحلیل کردیا اور بلخ شیرمرزاری کو نگران وزیراعظم مقرر کیا لیکن نواز شریف نے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت نے ایک ماہ اور آٹھ دن کے بعد انہیں بحال کردیا اس طرح بلخ شیر مرزاری پاکستان کے واحد نگران وزیر اعظم ہیں جو نہ صرف سب سے کم عرصے کے لیے نگران وزیر اعظم بنے بلکہ اپنی آئینی مدت بھی مکمل نہ کرسکے۔

1997 میں نواز شریف دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے

عدالتی حکم پر اسمبلی کی بحالی کے باوجود بھی یہ اسمبلی نہ چل سکی تاہم اس مرتبہ پہلی بار وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ صدر مملکت یعنی غلام اسحاق کو بھی مستٰعفی ہونا پڑا اور اس طرح غلام اسحاق خان نے اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد خود بھی استعٰفی دے دیا۔چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد قائم مقام صدر بنے اور معین قریشی کو نگران وزیراعظم بنایا گیا۔انیس سوترانوے میں بینظیر بھٹو دوبارہ وزیراعظم بنیں اور اٹھاون ٹو بی کی موجودگی کی وجہ سے اپنے قابل بھروسہ پارٹی رہنما سردار فاروق احمد خان لغاری کو صدر منتخب کرایا لیکن بینظیر بھٹو کی یہ حکمت عملی بھی ان کے کام نہیں آئی اور فاروق لغاری نے ان کی حکومت تحلیل کر کے پیپلز پارٹی کے سینئیر رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی ملک معراج خالد کو نگران وزیراعظم بنادیا

ذوالفقار علی بھٹو، ان کی بیٹی بینظیر بھٹو اور نواز شریف دو دو مرتبہ وزیراعظم بنے۔

ستانوے کے چناؤ میں نواز شریف بھی دوسری مرتبہ وزیراعظم بن گئے اور بینظیر بھٹو کی مدد سے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کردیا لیکن یہ آئینی بندوبست بھی ان کی حکومت کو بچانے میں مدد گارثابت نہ ہوا اورجنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر کو آئین معطل کرکے مارشل لاء لگادیا۔

جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم کی جگہ اپنے لیے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ تخلیق کیا اور اس طرح تین برس کے لیے وزیراعظم نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔

شجاعت حسین ڈیڑھ ماہ کے لیے وزیراعظم

اکتوبر دو ہزار دو کے انتخابات میں جہاں نئی اسمبلی وجود میں آئی وہیں اسمبلی کی تحلیل کا صدارتی اختیار بھی جنرل مشرف کے ایل ایف او کے ذریعے بحال ہوگیا تاہم صدر مشرف نے اپنے پیش رو کی طرح یہ اختیار استعمال نہیں کیا لیکن اس کے باوجود اسمبلی نے اپنی آئینی مدت میں تین وزیراعظم منتخب کیے جن میں میر ظفر اللہ خان جمالی نےڈیڑھ سال تک وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہنے کے بعد استعفیْ دے دیا، شجاعت حسین ڈیڑھ ماہ کے لیے وزیر اعظم بنے اور اسی دوران سینیٹر شوکت عزیز نے ضمنی انتخاب لڑا اور اسمبلی کی باقی باندہ مدت کے وزیراعظم چنے گئے۔

صدر پرویز مشرف نے اسمبلی کی مدت مکمل ہونے پر اس کو تحلیل کر دیا اور چیئرمین سینیٹ میاں محمد سرمرو کو نگراں وزیراعظم کو بنا دیا جو جنرل ضیا الحق کی نگران وزیر اعظم مقرر نہ کرنے کے بعد اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ تھا۔

اس وقت کے فوجی صدر نے پندرہ نومبر سال دو ہزار سات کو میاں محمد سرمروکو نگراں وزیراعظم مقرر کیا۔ انتخابات کی تاریخ آٹھ جنوری دی گئی لیکن ستائیس دسمبر کو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک خودکش حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکت کے بعد انتخابات کی تاریخ کو آگے بڑھا اٹھاہ فروری کر دی گئی۔

قانونی جنگ میں عہدہ کھونے والے پہلے وزیراعظم

انتخابات میں پیپلز پارٹی کے اکثریت حاصل کی اور وزارتِ اعظمی کے لیے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے رہنما یوسف رضا گیلانی کو نامزد کیا گیا اور انہوں نے 26 مارچ 2008 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

وزیراعظم گیلانی کو قومی مفاہمی آرڈیننس یعنی این آر او کے کیس پر عمل درآمد کرانے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے سخت دباؤ کا سامنا رہا اور 19 جون 2012 کو ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیراعظم کو اٹھاون ٹی بی یا فوجی بغاوت کے نتیجے میں نہیں بلکہ قانونی جنگ میں اپنا عہدہ کھونا پڑے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے این آر عمل درآمد کیس میں توہین عدالت کا مرتکب پانے پر وزیراعظم گیلانی کو نااہل قرار دے دیا۔

اس کے بعد 22 جون کو پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

11 مئی کے انتخابات سے قبل سے 16 مارچ کو قومی اسمبلی تحلیل کر دی گئی اور ملک کی 66 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک جمہوری حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد نگراں وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار خان کھوسوکا تقرر کیا گیا۔

نگراں وزیراعظم کے تقرری کے لیے پہلے وزیراعظم اور اپوزیشن رہنما اور پھر نگراں وزیراعظم کے چناؤ کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی مشاورت کے باوجود کسی ایک نام پر اتفاق نہیں کر سکی تھی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے دیے جانے والے چار ناموں میں سے نگراں وزیراعظم کا انتخاب کیا۔

11 مئی کے انتخاب میں مسلم لیگ نون نے اکثریت حاصل کی اور پانچ جون کو جماعت کے سربراہ میاں نواز شریف نے تیسری بار وزارتِ اعظمیٰ کا عہدہ سنبھال لیا۔

اسی بارے میں