ہتھیار ڈالنے کی خبر بےبنیاد ہے: بی آر اے

Image caption حکومت نے بلوچ عسکریت پسندوں کی بحالی کے لیے عام معافی اور مالی امداد کی پیشکش کی تھی

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں عسکری کاروائیوں میں مصروف علیحدگی پسند تنظیم بلوچ رپبلکن آرمی نے پاکستانی فوج کے حکام کی جانب سے تنظیم سے تعلق رکھنے والے سات سو افراد کے ہتھیار ڈالنے کی خبر کو بےبنیاد قرار دیا ہے۔

تنظیم کے ترجمان سرباز بلوچ نے نامعلوم مقام سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حکام کی جانب سے سات سو بلوچ مزاحمت کاروں کے ہتھیار ڈالنے کے بارے میں جو پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے وہ سفید جھوٹ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب حکام یہ کہتے ہیں کہ ڈیرہ بگٹی اور نصیر آباد کے علاقے پہلے ہی کلیئر ہیں تو پھر اب یہ سات سو سرمچار ( مسلح مزاحمت کار ) کہاں سے آگئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’تنظیم کے کسی بھی سرمچار نے ہتھیار نہیں ڈالے اور نہ ہی ہم ایسا کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔‘

بی آر اے کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ’حکومتی کارندے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔‘

سرباز بلوچ کا کہنا تھا کہ ان دعوؤں کا اصل مقصد کثیر القومی کمپنیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا اور انہیں بلوچستان میں کام کرنے پر آمادہ کرنا ہے تاکہ بلوچ وسائل کو لوٹ کر اپنی تباہ شدہ معیشت کو سنبھالادیا جا سکے۔‘

انہوں نے غیر ملکی کمپنیوں کو تنبیہ کی کہ اگر وہ بلوچستان میں کام کریں گی تو وہ اپنے اس عمل کی ذمہ دار خود ہوں گی۔

انہوں نے میڈیا کو بھی خبردار کیا کہ وہ محض ریاستی ترجمانی سے گریز کریں اور مکمل تحقیقات کے بعد جو بھی رپورٹ شائع کریں اس میں ان کے موقف کو بھی شامل کریں ۔

خیال رہے کہ دو روز قبل فرنٹیئر کور کے ایک کمانڈر کرنل شاذ الحق جنجوعہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں حکومتی پیشکش کے جواب میں صرف ضلع ڈیرہ بگٹی میں اب تک مجموعی طور پر ایسے سات سو بلوچ عسکریت پسند فوج کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں جن کا تعلق بلوچ ری پبلکن آرمی سے ہے۔

حکومت بلوچستان نے حال ہی میں آغاز حقوق بلوچستان کے تحت بلوچ عسکریت پسندوں کی بحالی کے لیے عام معافی اور مالی امداد کی پیشکش کی تھی تاہم بلوچستان کی علیٰحدگی پسند تنظیمیں حکومت کی ان پیشکشوں کو مسترد کرتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں