’ڈاکٹر عبدالمالک بلوچستان کے وزیراعلیٰ نامزد‘

Image caption بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنے کا جو وقت آیا، اس میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں: نواز شریف

پاکستان کے متوقع وزیرِاعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ بلوچستان میں وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک کے نام پر اتفاق ہوگیا ہے جبکہ صوبے کا گورنر پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہوگا۔

ادھر پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق بلوچستان کے موجودہ گورنر نواب ذوالفقار مگسی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

نواز شریف نے وزیراعلیٰ کی نامزدگی کا اعلان اتوار کو بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں کے اجلاس کے اختتام پر کیا۔

اس اجلاس میں نواز شریف کے علاوہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، ثناء اللہ زہری اور نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو نے بھی شرکت کی۔

بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں کامیابی کے لحاظ سے سرفہرست تین جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے حکومت بنانے کے لیے اتحاد قائم کیا ہے۔

واضح رہے کہ سنیچر کو بلوچستان اسمبلی کے نومنتخب اراکین نے افتتاحی اجلاس میں حلف اٹھا لیا تھا تاہم اتحادی جماعتوں میں وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا۔

صوبہ پنجاب کے پرفضا پہاڑی شہر مری میں اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ صوبے میں مسلم لیگ نون اور اس کی اتحادی جماعتوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ صوبے میں نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک وزیراعلیٰ کے عہدے کے امیدوار ہوں گے اور صوبے کے گورنر کا تعلق پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہوگا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق میاں نواز شریف کی جانب سے بلوچستان کی گورنری پختونخوا ملی عوامی پارٹی کو دیے جانے کے بعد موجودہ گورنر نواب ذوالفقار مگسی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں اور انہوں نے اپنا استعفی صدر مملکت آصف علی زرداری کو بھجوا دیا ہے۔

اتوار کو پریس کانفرنس میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ نون اس بات پر بہت خوش ہے کہ بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنے کا جو وقت آیا، اس میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور مزید کریں گے اور یہ پہلا قدم ہے بلوچستان کی یکجہتی کے لیے، بلوچستان میں وسیع تر مفاد کے لیے اور حالات بہتر کرنے کے لیے، اس کے علاوہ یہ طے پایا ہے کہ صوبے میں ایک شفاف حکومت ہو گی اور میرٹ اور انصاف کی حکمرانی ہو گی اور ہمارا اتحاد کرپشن کی اجازت نہیں دے گا۔‘

میاں نواز شریف نے کہا کہ ’بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، ہمارا مشترکہ فیصلہ ہے کہ ہم ماضی کو کسی کو بھی دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے اور اگر ہم نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور تو آج وہاں تبدیلی لا کر رہیں گے، صوبے میں اچھی طرز حکمرانی قائم کریں گے اور وہاں پر مضبوط حکومت قائم کریں گے جسے میں وفاق اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا اور اس کے لیے صوبے میں پارٹی قیادت اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت جاری رکھیں گے۔‘

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں پنجاب سے یہ شکایت تھی کہ تھوڑا جمہوری رویہ رکھو، آج پنجاب کا رویہ ہے، جمہوری پاکستان تشکیل، کرپشن کے خلاف لڑنے اور دہشت گردی کے خلاف لڑنے ایجنڈا ہے اور ہماری پشتون بلوچ اس متحدہ جنگ میں شامل ہیں، اور آج خوشی کی بات ہے کہ پشتون بلوچ اتحاد اور پنجاب کی رہبری کے ساتھ اکٹھے یہ اعلان ہو رہا ہے اور ایک جمہوری پاکستان کی تشکیل میں یہ سنگ میل کی حیثیت رکھے گا۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور سے حالات زیادہ خراب ہیں اور ان میں شدت اس وقت آئی جب ایک مبینہ فوجی آپریشن میں بلوچ قوم پرست بزرک رہنما نواب اکبر بگٹی مارے گئے۔ اس واقعے کے بعد سے صوبے میں مزاحمتی تحریک جاری ہے اور پرتشدد واقعات معمول بن گئے ہیں جن میں لوگوں کا لاپتہ ہونا اور اس کے بعد ان کی لاشوں کے ملنے کے واقعات نمایاں ہیں۔

اسی بارے میں