’شدت پسندوں کے سیاسی دھڑوں کی شناخت ضروری‘

Image caption آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا حق نہیں رکھتا: صدر زرداری

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اگر آنے والی حکومت شدت پسند قوتوں سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو وہ پہلے ان میں سے سیاسی اور غیر سیاسی عناصر کی شناخت کرے کیونکہ ان کے بقول جنگجو مذاکرات نہیں کیا کرتے۔

پاکستان کے مختلف نجی ٹی وی چینلز سے وابستہ صحافیوں کے ایک گروپ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ ’آنے والی حکومت اُن سیاسی قوتوں سے بات چیت شروع کر کے جنگجوؤں پر ان کا اثر و رسوخ استعمال کرے۔‘

انہوں نے اس سلسلے میں آئرلینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں جنگ کے دوران آئرش ری پبلکن آرمی کے بھی سیاسی اور جنگجو ونگ تھے اور جب سیاسی ونگ سے مذاکرات ہوئے تو لامحالہ آئرلینڈ میں امن قائم ہوا۔

پاکستان میں ڈرون حملوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر صدر زرداری نے کہا کہ ان کے دور حکومت میں امریکہ کے ساتھ اس سلسلے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ڈرون گرانے کے دعوے کیے ہیں، انہیں آپ گرانے دیں۔ ’سوال یہ ہے کہ آپ کی قوت اور استعداد کیا ہے وہ آپ کو پتہ ہے، صرف ایک چیل تو گرانی تو نہیں ہے۔ ڈرون ایک چیل ہے آپ نےگرا دی ٹھیک ہے، اس کے بعد آگے کیا؟‘

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے بارے میں نگران حکومت کے فیصلوں سے متعلق سوال پر صدر زرداری کا کہنا تھا کہ اس بارے میں فیصلہ کرنے کا مینڈیٹ نگراں حکومت کے پاس نہیں اور پرویز مشرف کی معافی کے لیے نواز شریف حکومت کی جانب سے درخواست آئی تو وہ اس پر عمل کے پابند ہوں گے۔

صدر نے سوئس کیسز کو متنازع قراردیتے ہوئے کہا کہ ان کی نظرمیں ان مقدمات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں صدر نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ صدارتی انتخاب عوامی مینڈیٹ کے بل پر لڑا تھا اور اب انہیں آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا حق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی شکست پر ان کے عہدۂ صدارت سے الگ ہونے کے بعد ستمبر میں بات ہوگی اور ان کی جماعت نے ہمیشہ جمہوریت کی خاطر قربانیاں دی ہیں اور وقت آنے پر جماعت کو منظم کیا جائے گا۔

اسی بارے میں