سردار ایاز صادق اور عمران خان کی دوستی

Image caption عمران خان اور ایاز صادق ایک دوسرے کے کالج کے زمانے کے دوست رہے ہیں

پاکستان کی قومی اسمبلی کے نئے سپیکر سردار ایاز صادق نے جس سیاسی جماعت سے سیاسی زندگی کا آغاز کیا اُسی جماعت کے سربراہ کو ہرا کر وہ رکن قومی اسمبلی اور پھر سپیکر کے عہدے تک پہنچے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کرنے والے سردار ایاز صادق اسی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو انتخابات میں شکست دے کر کامیاب ہوئے اور وہ تیسری بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے سردار ایاز صادق سترہ اکتوبر انیس سو چون میں پیدا ہوئے اور ایچی سن کالج سے ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے ہیلے کالج آف کامرس سے بی کام کی ڈگری حاصل کی۔

ایاز صادق سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سردار اقبال کے داماد ہیں جو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے مخالف تصور ہوتے تھے۔

ایاز صادق کی تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق کرکٹر عمران خان کے ساتھ سکول کے دنوں سے دوستی تھی بلکہ طالب علمی کے زمانے میں ایک بار ایچی سن کالج میں ہاکی کھیلتے ہوئے غیر دانستہ طور ان کی ہاکی کی زد میں عمران خان آگئے اور انہیں چوٹ لگ گئی۔

اسی دوستی کی بنیاد پر جب عمران خان نے اپنی جماعت کی بنیاد رکھی تو وہ اس میں شامل ہوگئے۔

فروری ستانوے میں ہونے والے عام انتخابات میں عمران خان لاہور سے جس قومی اسمبلی کی نشست کے لیے امیدوار تھے اسی حلقے کی صوبائی نشست پر سردار ایاز صادق نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے لیے انتخاب لڑا۔ تاہم دونوں ہی اپنی اپنی نشست پر کامیاب نہ ہوسکے۔

انیس سو ستانوے کے انتخابات کے بعد سردار ایاز صادق تحریک انصاف سے دور ہوگئے اور ایک سال بعد یعنی انیس سو اٹھانوے میں انہوں نے تحریک انصاف کو خیرباد کہہ دیا۔

مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف سے ان کی جلاوطنی کے دوران سعودی عرب میں ملاقات کے بعد سردار ایاز صادق نے مسلم لیگ نواز میں شامل ہوگئے۔

سعودی عرب سے واپسی پر سردار ایاز صادق نے سابق میئر لاہور اور مسلم لیگ نواز کے رہنما میاں شجاع الرحمان کے گھر ہونے والی ایک سیاسی تقریب میں خطاب کیا۔ یہ ان کا مسلم لیگ نواز کی کسی سیاسی تقریب میں پہلا خطاب تھا۔

سردار ایاز صادق نے مسلم لیگ نواز میں شمولیت کے بعد دو ہزار دو میں ہونے والے انتخابات میں لاہور سے حصہ لیا اور قومی اسمبلی کی نشست پر اپنے پرانے دوست اور قائد عمران خان کو شکست دے کر قومی اسمبلی میں پہنچے۔

سردار ایاز صادق دو ہزار آٹھ میں دوبارہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور دو ہزار تیرہ کے انتخابات انہیں ایک بار پھر اپنے پرانے دوست عمران خان کے مدِمقابل لے آئے۔

اس بار سردار ایاز صادق نے نہ صرف قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب حاصل کی بلکہ قومی اسمبلی کے سپیکر کا منصب بھی اب ان کے حصہ میں آیا ہے۔

نومنتخب سپیکر سردار ایاز صادق کو کرکٹ کے علاوہ سیاحت اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے اور وہ پیپلز پارٹی کے بانی رہنما ملک معراج خالد کے بعد دوسرے سپیکر قومی اسمبلی ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔

سیاست نے بچپن کے ان دو دوستوں کو بارہا ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کیا مگر اس بار رکنِ قومی اسمبلی عمران خان کو ایوان کے اندر کسی موضوع پر بولنے کے لیے قوائد ضوابط کے مطابق سپیکر یعنی ایاز صادق کی اجازت کی ضرورت ہو گی۔

اسی بارے میں