مشرف نواز شریف کی اولین ٹینشن

پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر نواز شریف کی متوقع حکومت کے بیگج میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اسی بیگج کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف۔

کیا جنرل پرویز مشرف کے لیے ایک طیارہ کہیں فضا میں ہے یا جدہ کے ہوائی اڈے پر یا بعض پاکستانی مبصرین کے مطابق اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ہنگامی پرواز کے لیے تیار کھڑا ہے؟

جنرل مشرف کو اس وقت دو بڑے مقدمات کا سامنا ہے مگر ان کو بیرون ملک بھجوانے اور ڈیل کی باتیں جس قدر اسلام آباد کے حلقوں میں عام ہیں اس سے اس معاملے کی اہمیت کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے۔

میاں نواز شریف کی جماعت کا مشرف کے بارے میں ردِ عمل بہت سوں کو تشویش میں مبتلا کرتا ہے اور بقول مسلم لیگ ق کے ایک سینیٹر کے ڈیل کی افواہوں کو تقویت دیتا ہے۔

مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے ’مشرف کی قسمت کا فیصلہ سیاسی حکومت کے پاس نہیں ہے۔ ان کے کیسز عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنا اب قانون اور عدالتوں کا کام ہے کیونکہ انہوں نے بعض ایسے کام کیے ہیں جو جرم کے زمرے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ تین نومبر دو ہزار سات کی ہنگامی حالت کے نفاذ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے بعض فیصلے بھی ہیں جو کہ ایک غیر آئینی اقدام تھا۔‘

اور دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے ابھی سے ہی اس حوالے سے مسلم لیگ نواز پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔

سب سے اہم بات اس حوالے سے یہ ہے کہ کوئی بھی تجزیہ کار گزشتہ چند دنوں سے اس حوالے سے کسی قسم کی بات کرنے سے گریزاں نظر آتا ہے۔

ایک سینیئر صحافی اور سابق سفارتکار سے پوچھا گیا تو ان کو جواب تھا کہ اس موقع پر اس حوالے سے بات کرنا بہت مشکل اور مسائل کو دعوت دینے والی بات ہے۔

سیاسی امور کے تجزیہ کار سید طارق پیرزادہ کہتے ہیں کہ ’چونکہ نگراں حکومت کسی کو جوابدہ نہیں ہے اور اس کے کیے گئے کاموں پر کوئی بھی سوال نہیں اٹھا پائے گا تو ممکن ہے کہ آخری چند لمحات میں کچھ ہو جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ اگر جنرل پرویز مشرف کی ضمانت ہو جاتی ہے اور اگر مشرف آج چلے جاتے ہیں تو یہ کہا جائے گا کہ یہ سب حکومتِ پاکستان، فوج اور نوازشریف اور مشرف کے درمیان ایک ڈیل یا سمجھوتے کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے۔‘

جنرل مشرف کے قریبی ساتھی اور ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں ’یہ سب بالکل بے بنیاد ہے۔ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی ہے اور پرویز مشرف جب پاکستان آئے تھے تو انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان تمام کیسز کا مقابلہ کریں گے جو ان کے خلاف تیار کیے گے ہیں۔ میں تین چار کیسز کے حوالے سے یہ کہہ رہا ہوں کہ جب تک ان کا فیصلہ نہیں ہوجاتا تب تک وہ پاکستان ہی میں رہیں گے۔‘

طارق پیرزادہ کا کہنا ہے ’کسی نہ کسی طور پر میاں نواز شریف کو پرویز مشرف کے حوالے سے ایک حقیقت پسندانہ موقف اختیار کرنا پڑے گا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اگر وہ مشرف کو جانے دیتے ہیں تو اس کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے اور وہ عوام کو کیا جواب دیں گے جو انہیں ان کی ہی باتوں پر سوال کریں گے کیوں وہ گزشتہ پانچ سالوں سے عوام سے مشرف کے احتساب کے حوالے سے غلط بیانی سے کام لیتے رہے۔‘

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جنرل مشرف بغیر سپریم کورٹ کی اجازت کے ملک چھوڑ کر کیسے جائیں گے؟ سپریم کورٹ ہی نے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کروایا تھا اور اگر ایسا کسی بیرونی حکومت کے ایما پر ہوتا ہے تو کیا نواز شریف اپنے مخالفین کو صرف گارڈ آف آنر والی بات سے چپ کروا پائیں گے؟

دوسری صورت میں اگر جنرل مشرف پاکستان سے نہیں جاتے اور مقدمات کا سامنا کرتے ہیں تو بقول جنرل مشرف کے ساتھیوں کے ان کے ساتھ ان مقدمات میں اور بہت کچھ ہے اور مشرف واحد نہیں ہیں جو سزا کے مستحق ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ کیا مشرف نواز شریف حکومت کے لیے سوئس حکام کو خط تو نہیں بن جائیں گے جس کے بعد نواز شریف اپنے آپ کو ’نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن‘ کی صورتحال میں گرفتار پائیں۔

اسی بارے میں