ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ یا سیاسی جماعتوں سےمشاورت

Image caption میاں نواز شریف پہلی شخصیت ہیں جو تیسری بار پاکستان کے وزیرِاعظم منتخب ہوئے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں بدھ کو دو تہائی اکثریت سے زائد ووٹ حاصل کر کے پہلی مرتبہ تیسری بار وزیرِاعظم بن کر جہاں میاں نواز شریف نے ایک نئی تاریخ رقم کی وہاں مسلم لیگ (ن) کے متوالوں نے طوفانِ بدتمیزی و بدنظمی برپا کر کے پیپلز پارٹی کے جیالوں کے ریکارڈ توڑ دیے۔

یہ اجلاس دو حوالوں سے تاریخی ہے۔ ایک تو پہلی بار جمہوری انداز میں ’سویلین ٹو سویلین‘ اقتدار کی منتقلی ہوئی اور دوئم یہ کہ میاں نواز شریف پہلی شخصیت ہیں جو تیسری بار وزیرِاعظم منتخب ہوئے۔

اجلاس شروع ہونے سے کافی وقت پہلے ہی مختلف شہروں سے آئے مسلم لیگی کارکنوں نے مہمانوں کی گیلریوں کے علاوہ صحافیوں کی گیلری پر بھی قبضہ جمالیا اور میڈیا لاؤنج میں بھی وہ زبردستی گھس آئے۔ صحافی ان کی منت سماجت کرتے رہے لیکن وہ نہیں مانے۔ کئی کارکنوں نے صحافیوں کو گالیاں دیں اور انہیں گلے سے پکڑا جس پر مار کٹائی اور گالم گلوچ کے ساتھ ساتھ دھکم پیل بھی ہوئی۔

حالات اس حد تک خراب ہوگئے کہ نو منتخب سپیکر سردار ایاز صادق خود پریس گیلری میں سارجنٹس کے ہمراہ آئے اور اپنی جماعت کے کارکنوں کو منت سماجت کرکے وہاں سے نکالا۔ لیکن پھر بھی پریس گیلری میں ایک تہائی سے زائد مسلم لیگ (ن) کے کارکن موجود رہے جو صحافیوں کے منع کرنے کے باوجود بھرپور نعرہ بازی کرتے رہے۔

حد تو یہ ہوگئی کہ کئی کارکن ایوان کے اندر گھس گئے اور کسی غیر رکن کا ایوان کے فلور پر آنا ایوان کی توہین ہے۔ اس بات کی نشاندہی تحریکِ انصاف کے شاہ محمود قریشی نے بھی کی جس پر سپیکر نے معذرت کرلی۔ سپیکر نے خود غلطی تسلیم کی کہ گیلریوں میں مہمانوں کی گنجائش سے کہیں زیادہ تعداد میں پاس جاری کیے گئے ہیں اور انہوں نے میڈیا سے بھی معذرت کی۔

ممتاز بھٹو، شہباز شریف، لیاقت جتوئی، راجہ ظفرالحق، سرتاج عزیز، اسحٰق ڈار، میاں نواز شریف کے صاحبزادے اور ایک عرب سفارتکار وزیرِاعظم گیلری میں نظر آئے جبکہ ملیحہ لودھی اور صدیق الفاروق سمیت کئی سرکردہ لوگ سپیکر گیلری میں بیٹھے رہے۔ آفیشل گیلری میں مسلم لیگ (ن) کےہارے ہوئے پیر صابر شاہ، رانا محمود الحسن اور نصیر بھٹہ سمیت کئی لوگ بیٹھے رہے۔

میاں نواز شریف آخر میں اپنے آپ کو ووٹ دینے کے لیے جب جانے لگے تو فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ گیلریوں میں بیٹھے کسی شخص سے ہاتھ ملائے بنا لابی میں داخل ہوئے۔ بعض لوگوں نے ان سے ہاتھ ملانے کی کوشش بھی کی لیکن میاں صاحب بنا ہاتھ ملائے آگے چل دیے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ پہلے ہی وہ کئی لوگوں سے مبارکباد لینے کے لیے پچاس بار اٹھک بیٹھک کر چکے تھے۔

میاں صاحب کو اپنی جماعت سمیت سولہ جماعتوں کے دو سو چوالیس ووٹ ملے جبکہ پیلز پارٹی کے امیدوار امین فہیم کو بیالیس اور جاوید ہاشمی کو اکتیس ووٹ پڑے۔ وزیراعظم کو سادہ اکثریت کے لیے ایک سو بہتر ووٹ درکار ہوتے ہیں اور دو تہائی کے لیے دو سو اٹھائیس ووٹ۔ مسلم لیگ (ن) کے ایاز صادق پیر کو دو سو اٹھاون ووٹ لے کر قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے تو اس اعتبار سے نواز شریف کو کم ووٹ ملے۔

میاں نواز شریف نے وزیرِاعظم منتخب ہونے کے بعد جو تقریر کی وہ ایک منجھے ہوئے لیڈر کی تقریر محسوس ہوئی۔ انہوں نے تمام جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ بیٹھنے اور ملکی مسائل مل کر حل کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے انتہا پسندی، غربت، بے روزگاری، مہنگائی، توانائی کے بحران، کرپشن اور دیگر مسائل کا ذکر کیا اور انہیں حل کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

انہوں نے بلوچستان میں دیگر جماعتوں کو وزارتِ اعلیٰ اور گورنرشپ دے کر بلوچستان میں حقیقی قیادت کو آگے لانے کا تو ذکر کیا لیکن وہ وہاں آئے روز سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ بند کرانے کے لیے کچھ نہیں بولے۔ انہوں نے طالبان سے مذاکرات، بھارت اور افغانستان سے تعلقات کے بارے میں بھی شاید جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی۔

لیکن میاں نواز شریف نے ڈرونز کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایسا سفارتی انداز اپنایا کہ کئی لوگ حیران رہ گئے۔ انہوں نے امریکہ کا نام لیے بنا تمام جماعتوں کے رہنماؤں کو مخاطب ہوکر کہا کہ ’آئیں مل کر بیٹھیں صلاح مشورا کریں کہ کیا اقدامات اٹھائیں۔۔ دوسرے ممالک کے کنسرن (تشویش) ہیں انہیں کس طرح ایڈریس کریں۔۔ وہ ہمارے کنسرنس کو کس طرح ایڈریس کریں اور روز روز کا جو سلسلہ ہے ڈرونز حملوں کا اس کا باب اب بند ہونا چاہیے‘۔

ڈرونز حملوں کی بندش کے ذکر پر پورا ایوان تالیوں سے گونج اٹھا لیکن شاید ہی کسی نے سمجھا ہو کہ یہ مطالبہ نہیں مشورہ تھا۔ میاں صاحب نے گویا امریکہ اور دیگر کی تشویش کو تسلیم کیا اور اسے دور کر کے ڈرونز حملے رکوانے کی بات کی۔ بحرحال میاں نواز شریف کی شخصیت میں واضح نکھار آیا ہے۔

اسی بارے میں