قسمت کے دھنی کی تقدیر سے لڑائی

Image caption جنرل ضیا کے بوئے ہوئے سیاسی بیجوں میں سب سے اہم میاں نواز شریف تھے

ایک ایسے دن جب ایک مقبول سیاسی رہنما ایک جمہوری انتخابی عمل میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وزارت عظمٰی کے لیے تاریخ ساز حلف اٹھا رہا ہے تو شاید جنرل ضیاالحق کا ذکر کرنا کچھ عجیب لگے۔

لیکن پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دور کی بات کیے بغیر میاں نواز شریف کے سیاسی سفر کا ذکر اگر کیا بھی جائے تو کیونکر؟ کیا میاں صاحب کی سیاست کی کہانی ایک قسمت کے بچے کی تقدیر سے لڑائی کی داستان نہیں؟ لیکن پہلے کچھ ذکر جنرل ضیاالحق کا۔

جنرل ضیا کا سیاسی فلسفہ ان کے اپنے اقدار کے دوام سے آگے کبھی نہ بڑھ سکا۔ وہ صرف اتنا چاہتے تھے کہ وہ امیرالمومنین ہوں، خواہ اس کے لیے انہیں بندوق اور تشدد کا سہارا لینا پڑے، جعلی ریفرنڈم کا، مقامی حکومتوں کا یا غیر جماعتی انتخابات کا۔ انہیں جمہوریت کے تصور سے نفرت تھی اور وہ کسی ایسی بحث میں نہ پڑتے جس کا محور ان کی حاکمیت نہ ہو۔

اس کے برعکس، ان کا کلچرل ایجنڈا غیر مبہم بلکہ انتہائی واضح تھا۔ وہ ایک رجعت پسند معاشرہ چاہتے تھے جس میں تقدیر قادر ہو اور تدبیر کی بات کرنے والا رضائے الٰہی کا باغی ہو۔

مجھے یاد نہیں کہ کبھی انہوں نے سائنس، ٹیکنالوجی یا ترقی کی بات کی ہو سوائے وہاں جہاں جدید جنگی ٹیکنالوجی ان کی رجعت پسندی کو ملک اور ملک سے باہر پھیلانے میں مددگار ہو سکے۔ ان کا آئیڈیل ایک ایسا معاشرہ تھا جس میں ہر کوئی اپنی قسمت پر شاکر ہو، غربت کو اللہ کی رضا مان کر قبول کیا جائے اور امارت کو اس کی رحمت جان کر اس سے حسد نہ کیا جائے۔ وقت بے وقت خدا کے حضور گڑگڑا کر رونا ہی انسانیت کی معراج ہو اور ایسا کرنے والے کے پاس ہر دنیاوی برائی کا لائسنس ہو۔

یہ وہ کلچرل بیج تھا جو جنرل ضیاءالحق نے بویا۔ ایک ایسی امر بیل کا بیج جو پروان چڑھنے میں خواہ کتنا ہی وقت کیوں نہ لے لیکن اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن نہ ہو۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تقدیر بن جائے اور اس کے سامنے ہر تدبیر ہیچ ہو۔

ان کے بوئے ہوئے سیاسی بیجوں میں سب سے اہم میاں نواز شریف تھے۔ قسمت کا یہ دھنی جب پنجاب کے وزیر خزانہ کے طور پر سیاسی میدان میں اترا تو شاید اس کو خبر بھی نہ تھی کہ اسے سیاست میں لانے والا اس کی تقدیر بھی لکھ بیٹھا ہے اور اسی تقدیر کے تحت وہ محض چھ سال کے عرصے میں پاکستان کا وزیر اعظم بن گیا۔

جنرل ضیا کی لکھی تقدیر کے مطابق اسے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا چیمپیئن ہونا تھا اور جنرل ضیا کے برعکس جمہوریت کا لبادہ اوڑھے اس چیمپیئن پر نہ تو آمریت کا الزام لگتا اور نہ ہی ایک سکیورٹی ریاست کے عوام دشمن ایجنڈے پر چلنے کے لیے عوامی حمایت کے فقدان کا۔ یہ وہ سیاسی پتلا تھا جس کی تلاش میں ریاست آدھا ملک گنوا بیٹھی تھی۔ اب ریاستی اداروں کے لیے آرام کا وقت تھا۔

لیکن قسمت کا یہ دھنی تقدیر سے بھڑ گیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے ایک بڑے ستون سے ٹکر لی، خود بھی ڈوبا اور اسے بھی لے ڈوبا۔ اس جھگڑے میں اقتدار تو گیا لیکن میاں صاحب نے خود کو عوامی سیاست کی ایک نئی دنیا میں پایا جس کی اس سے پہلے انہیں نہ تو سمجھ تھی اور نہ ہی خواہش۔ یوں ان کی قسمت نے پھر یاوری کی۔

دوسری جانب سیکیورٹی ریاست بھی اتنی آسانی سے اپنا سیاسی سرمایہ لٹانے کو تیار نہ تھی۔ میاں صاحب کو ایک اور موقع ملا کہ وہ جنرل ضیا کی لکھی تقدیر اپنائیں اور ایک انتہائی طاقتور سکیورٹی ریاست کے جنگجو ایجنڈے کو عوامی حمایت کا سہارا دیں۔ لیکن قسمت کا یہ بچہ ایک بار پھر تقدیر سے بھڑ گیا اور ریاست کے سب سے مضبوط ستون سے ٹکرا گیا۔ بھارت سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا، پاکستان کی جوہری صلاحیت کے باضابطہ مظاہرے پر حیل و حجت کی اور ایک فوجی سربراہ کو سیاسی بیان بازی کے الزام میں نکال باہر کیا جبکہ دوسرے کو حکومتی پالیسی سے بغاوت پر باقاعدہ گرفتار کرنے کی کوشش کی۔

اس دفعہ نہ صرف اقتدار کھویا بلکہ سزائے موت ملی اور اس سے بچنے کے لیے ایک ڈیل کے تحت ملک بدر ہوا۔ میدان چھوڑ کر بھاگنے کا الزام لگا، واپسی کی کوشش کی تو سعودی کرم فرماؤں کی ناراضی ملی لیکن قسمت کا دھنی تھا کہ اس کا سیاسی حریف خود ہی ہوش کھو بیٹھا۔ اپنی سب سے بڑی سیاسی حریف سے جمہوریت کی بقا کا معاہدہ کیا لیکن پھر بھی شاید ملکی سیاست میں پہلے والا مقام نہ حاصل کر پاتا کہ بینظیر بھٹو قتل ہوئیں اور ان کے جانشینوں نے محض پانچ برس میں میاں صاحب کے لیے اتنی جگہ بنا ڈالی جس کا شاید انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہو۔

گیارہ مئی کے انتخابی معرکے میں بائیں بازو کا روایتی ووٹ تقریباً دم توڑ گیا۔ یہ الیکشن ایک ایسے ماحول میں ہوا جہاں جنرل ضیا کا لگایا ہوا مذہبی عدم برداشت اور تشدد کا پودا برگد کا درخت بن چکا ہے۔ اس کے سائے سے ملک کا ہر پہلو تاریک ہے اور یوں لگتا ہے کہ پاکستان کے لیے جنرل ضیا کی لکھی تقدیر اپنے فائنل چیپٹر میں داخل ہو چکی ہے۔

اس تقدیر کے مطابق جنرل ضیا کا پیدا کیا ہوا سیاستدان جنرل ضیا کی سوچ میں ڈھلے ہوئے معاشرے کا مقبول رہنما ہے۔ وہ تمام سیاسی پنڈت جن کے مطابق میاں نواز شریف کی سیاست ہمیشہ کے لیے ان کی ملک بدری کی ڈیل کی نظر ہو چکی ہے آج خاموش ہیں۔ وہ ایک دیو قامت سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں، طالبان سے مذاکرات کے خواہاں ہیں، انہیں عزت دینے کو تیار ہیں، سیاسی جگہ دینے کو تیار ہیں۔ جدیدیت کے خلاف اس قدر مکمل فتح شاید جنرل ضیا کے گمان میں بھی نہ تھی۔ یہی وہ تقدیر تھی جس کا کاتب تو پچیس برس پہلے مر گیا لیکن وہ پاکستان میں مسلسل پروان چڑھتی رہی۔

لیکن اس کی کیا ضمانت کے قسمت کا یہ بچہ ایک بار پھر تقدیر سے نا بھڑے گا؟ کیا اس نئے نواز شریف کا خواب، ایک مہذب، جدید اور ترقی یافتہ معاشرہ اس سیاسی ورثے سے مطابقت رکھتا ہے جو جنرل ضیا نے ان کے لیے چھوڑا ہے؟

کیا بھارت اور طالبان سے ایک وقت میں مفاہمت ہو سکتی ہے؟ کیا پاکستانی فوج کو ذہنی طور پر افغانستان سے نکالا جا سکتا ہے؟ کیا ملک کا نظام تعلیم بدلے بغیر ایک مہذب اور ترقی پسند معاشرے کی توقع رکھی جا سکتی ہے؟ کیا پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی کو بدلے بغیر دنیا کو اس کی نیک نیتی پر قائل کیا جا سکتا ہے؟ کیا ایک سیکیولر ریاست قائم کیے بغیر مذہبی تشدد روکا جا سکتا ہے؟

طالبان، افغانستان، ماضی کی بیمار سوچ میں گلتی سڑتی سیکیورٹی پالیسی، فرسودہ نظام تعلیم اور مذہبی تفریق میاں نواز شریف کا ورثہ ہی نہیں پاکستان میں اقتدار کے خواہاں ان جیسے ہر سیاسی رہنما کی تقدیر ہے۔ اس سے لڑنا کوئی معمولی چیلنج نہیں۔ اس کے لیے کوئی قسمت کا دھنی چاہیے، اور میاں نواز شریف قسمت کا وہ بچہ ہے جو ہمیشہ تقدیر سے بھڑا ہے۔

اسی بارے میں