نواز شریف اور عدلیہ

قسمت کے دھنی میاں نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا منصب ایک ایسے وقت میں سنبھالا ہے جب ملک میں ایک فعال عدلیہ ہے اور اس پہلے بھی جب نواز شریف وزیر اعظم بنے تو اس وقت بھی ان کا واسطہ ایک فعال چیف جسٹس سے پڑا تھا۔

نواز شریف کے سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ تعلقات بعض معاملات میں محاذ آرائی کی شکل اختیار کرگئے تھے۔

موجودہ عدلیہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق حکومت کے درمیان بھی کئی معاملات پر تناؤ چلتا رہا اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے کی پاداش میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے الزام میں گھر جانا پڑا۔

جہاں مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف کے دوسرے دور میں سپریم کورٹ پر حملہ ہوا بلکہ نواز شریف کو توہین عدالت کے سلسلے میں سپریم کورٹ پیش ہوئے وہیں حزب اختلاف کے رہنما کے طور انہوں نے عدلیہ بحالی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔

اسی نواز شریف کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ ان کے فعال عدلیہ کے ساتھ تعلقات کیسے ہوں گے؟

وکلا رہنما ہوں ، ماہرین قانون یا پھر سیاسی مبصرین سب اس بات پر متفق ہیں کہ نواز شریف نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے اور اب ان کی حکومت عدلیہ کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرے گی بلکہ عدلیہ کے ساتھ معاملات کو مفاہمت سے چلایا جائے گا۔

سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ نواز شریف اس بات کو جان گئے ہیں کہ انتظامیہ کی عدلیہ سے لڑائی خود انتظامیہ کے حق میں نہیں ہوتی اس لیے وہ احتیاط سے کام لیں گے۔

سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری جاوید اقبال راجہ نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حکومت نے اپنی کارکردگی کو بہتر نہ کیا تو عدلیہ اس کا نوٹس لے گی اور یہ وہ وقت ہوگا جب حکومت اور عدلیہ میں محاذ آرائی کی صورت پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ حکومت عدلیہ کے اقدام کو اپنے دائرہ اختیار میں مداخلت سمجھے گی۔

سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ عدلیہ اسی وقت اپنا ردعمل ظاہر کرتی ہے جب بروقت عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہو۔ ان کے بقول اب سوموٹو یا از خود نوٹس لینے رجحان میں کمی ہوگی۔

ڈاکٹر خالد رانجھا کا خیال ہے کہ حکومت کئی معاملات میں عدلیہ کو ساتھ لے کر چلے گی اور خاص طور پر اٹارنی جنرل پاکستان کی تقرری مشاورت سے ہوگی۔

تحزیہ نگار اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ چونکہ مسلم لیگ نواز نے عدلیہ کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا تھا اس لیے عدلیہ میاں نواز شریف کی حکومت کو ’ٹف ٹائم‘ نہیں دے گی۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ جب ادارے خود مختار ہوجائیں تو ایسی باتیں بے معنی ہوجاتی ہیں کہ کس کا کس سےتعلق ہے اور کس نے عدلیہ کی بحالی کے لیے کام کیا۔

البتہ قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ اگر عدلیہ کے بارے میں ایسا تاثر پیدا ہوجائے کہ عدلیہ حکومت کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے تو پھر عوام کدھر جائیں گے؟

ڈاکٹر خالد رانجھا کے مطابق جب تاثر ہو کہ عدلیہ کا حکومت کے لیے رویہ نرم ہے ہوگا تو بقول ان کے عدلیہ، عدلیہ نہیں رہتی اس لیے ایسا تاثر بالکل نہیں ہونا چاہئے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اگر حکومت کا عدلیہ کے ساتھ کوئی مسئلہ پیدا ہوا تو فوری نہیں ہوگا اور اگر ایسا ہوا تو اس میں بھی کافی وقت لگے۔

سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری جاوید اقبال راجہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر حکومت عوامی مسائل پر توجہ نہ دے تو عدلیہ اس کا نوٹس ضرور لے گی اور مسلم لیگ نواز کے لیے مسائل پیدا ہوں گے کیونکہ نواز شریف کو سیاسی حمایت حاصل ہے لیکن اخلاقی حمایت ابھی نہیں ملی۔

موجودہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری اس سال دسمبر میں ریٹائر ہوجائیں گے اور اس کے بعد جسٹس تصدق حسین جیلانی کی نئے چیف جسٹس کے طور پر تقرری کے امکانات ہوں گے جنہیں بینظیر بھٹو کے دور میں لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔

سیاسی مصبرین کی رائے ہے کہ جتنی دیر میں حکومت اپنے معاملات کو سیدھا کرے گی اتنی دیر میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ریٹائر ہوجائیں گے اور نئے چیف جسٹس کو معاملات پر گرفت حاصل کرنے میں وقت لگے گا۔

اسی بارے میں