نواز شریف تب اور اب

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف چودہ سال بعد تیسری بار پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے ہیں۔

اس عرصے میں انھوں نے قید تنہائی کاٹی، جلاوطنی میں رہے، ایک بار ملک واپس آنے کی کوشش میں چکلالہ ایئرپورٹ سے ڈنڈا ڈولی کر کے واپس بھیجے گئے۔ پھر دو انتخابی مہمات چلائیں اور اس میں قوم کے ساتھ اپنا اعتماد بحال کیا اور ایسے ایسے وعدے کیے کہ پنجاب اور دوسرے صوبوں میں ان کے اتحادیوں نے اپنی تقدیر پھر ان کے ہاتھوں میں دے دی۔

ان چودہ سالوں میں ملک میں کیا بدلا اس کے لیے حکمرانوں کے پاس اعداد وشمار موجود ہیں تاہم کچھ ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں بدلی ہیں جو انتخابی نعروں میں نہیں سما سکتی۔

ملک میں پانی نہیں ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو اپنے شہر لاہور کے بیچ سے گزرتے راوی چلے جائیے۔ لاہور کے گندے نالوں میں اس سے زیادہ اور صاف پانی مل جائے گا۔ سنہ 1999 میں آپ جیسے کھاتے پیتے لوگ بوتل کا پانی پیتے تھے اب کچی آبادیوں میں بھی منرل واٹر ملتا ہے اور ملک کے سارے ہسپتال ان لوگوں سے بھرے ہیں جو سرکاری نلکے کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔

جو بچے آپ کے آخری دورِ حکومت میں سکول میں داخلہ نہ لے سکے وہ اب جوان ہو گئے ہیں۔ لیکن سب کے سب نہ دہشت گرد بنے ہیں، نہ ڈاکو، اکثر مزدوری کر کے روزی روٹی کمانے پر مجبور ہیں۔ انھوں نے بھی آپ کو ووٹ دیا ہے حالانکہ ان کے پاس بینک سے قرضے لینے کے لیے کوئی بزنس پلان نہیں ہے۔

آپ کے حلف لینے کے 72 گھنٹے کے اندر اندر کوئی شہری اس لیے مارا جائے گا کہ اس کا تعلق کسی مذہبی اقلیت سے یا کسی ایسے فرقے سے ہے جن کا نام ہمیں پسند نہیں ہیں۔ شیعہ کو کافر کہنے والے سنہ 1999 میں بھی تھے لیکن فرق یہ ہے کہ تب وہ بندوق سے مارتے تھے اب وہ ٹرک میں بارود بھر کر مارتے ہیں۔

جو بچے آپ کے زمانے میں مدرسوں میں داخل ہوئے تھے وہ سب کے سب فارغ التحصیل ہو کر طالبان نہیں بنے، اکثر نے اپنے نئے مدرسے کھول لیے ہیں۔ طالبان سے بات آپ کے دور حکومت میں بھی ہوتی تھی، آپ کے بعد بھی ہوئی، اب بھی ہونی چاہیئے تاہم یہ سوچ لیں کہ کیا بات کرنی ہے؟

مولانا فضل الرحمن نے یہ راز نہ پہلے کسی کو بتایا ہے نہ اب بتائیں گے کہ آپ کے آخری دورِ حکومت میں غریب وہ تھا جس کے سر پر چھت نہیں تھی، چھت اب بھی نہیں ہے لیکن وہ بھی کبھی کبھی کیبل ٹی وی ضرور دیکھ لیتا ہے۔ ہوسکتا ہے آپ کا خیال ہو کہ عدالتیں آپ کے ہمدرد ججوں سے بھری پڑی ہیں لیکن جج بھی شام کو وہی ٹی وی شو دیکھتے ہیں جو آپ اور غریب آدمی دیکھتے ہیں۔

پچھلے چودہ سالوں میں دنیا میں کوئی حکومت فیس بک، ٹوئٹر یا یوٹیوب نے نہیں گرائی، لیکن جنھوں نے ان پر پابندی لگانے کی کوشش کی ان کی حکومت بچی بھی نہیں۔

سعودی عرب تب بھی بڑا بھائی تھا اب بھی بڑا بھائی ہے لیکن ماضی کا تجربہ یہی کہتا ہے کہ بھائی لوگوں کے بغیر گزارا کرنے کی عادت ڈالنی چاہیئے۔

ہمارے فوجی بھائی شاید سنہ 1999 میں ذرا جذباتی ہو گئے تھے آج کل سنا ہے ڈسپلن میں ہیں تاہم بلوچستان کے مقابلے میں ابھی بھی جذباتی ہیں۔

اگر آپ کی حکومت کے پہلے چند مہینوں میں فوج کے زندان خانے نہ کھلے اور سینکڑوں بلوچ نوجوان زندہ سلامت واپس نہ آئے اور ان کے وارث بھی جذباتی ہونے کا حق رکھتے ہیں۔

شریف خاندان کے ہونہار بچے حمزہ، سلمان اور مریم پہلے دور حکومت میں بچے تھے اب سنا ہے مرغی اور دودھ کے دھندے کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی نام بنا رہے ہیں۔ انھیں کسی بھی طرح کا قرضہ دینے والے بینکوں سے دور رکھیں تو آپ کا نام زیادہ روشن کریں گے۔

یہ ملک گڈ گورننس کے بغیر بھی چلتا رہا، انصاف کے بغیر بھی، بجلی کے بغیر بھی اور گیس کے بغیر بھی۔ اب یہ مت سمجھ لیجیئے گا کہ پانی کے بغیر بھی چلتا رہے گا۔

اسی بارے میں