نواز شریف نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا

Image caption نواز شریف کو کمزور معیشت، عسکریت پسندی اور امریکی ڈرون حملوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے

پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اسلام آباد میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے سربراہ قومی اسمبلی میں قائدِ ایوان کے الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے پاکستان کے چوبیسویں وزیرِاعظم منتخب ہوئے تھے۔

انہوں نے بدھ کی شام ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے ان سے حلف لیا۔

حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کے سیاسی منظرنامے کی بیشتر اہم شخصیات کے علاوہ مسلح افواج کے سربراہان اور الیکشن کمیشن کے حکام بھی شریک ہوئے۔

نواز شریف کی پہلی تقریر کے اہم نکات

نواز شریف تقریباً 13 سال اور 8 ماہ تک پاکستان کے ایوانِ زیریں سے دور رہنے کے بعد تیسری مرتبہ ملک کے وزیراعظم کے طور پر واپس آئے ہیں جو کہ ملک کی پارلیمانی تاریخ کا ایک ریکارڈ ہے۔

قومی اسمبلی میں نئے قائدِ ایوان کا انتخاب اراکین اسمبلی کی تقسیم کے ذریعے کیا گیا۔

رائے شماری میں کامیابی کے لیے نواز شریف کو 172 ووٹ درکار تھے جبکہ انہیں ملنے والے ووٹوں کی تعداد 244 رہی جبکہ ان کے مدِمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار مخدوم امین فہیم کو 42 جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جاوید ہاشمی کو 31 ووٹ ملے۔

Image caption نواز شریف کے حامیوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جشن منایا

گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کو ایوانِ زیریں میں سادہ اکثریت حاصل ہوئی تھی اس لیے نواز شریف کی کامیابی یقینی تھی۔

قائدِ ایوان کے انتخاب میں مسلم لیگ ن کے علاوہ ایم کیو ایم، جمعیت علمائے اسلام ف، مسلم لیگ فنکشنل، قومی وطن پارٹی، جماعتِ اسلامی کے ارکان کے علاوہ متعدد آزاد ارکان نے بھی نواز شریف کو ووٹ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان اور جمہوریت لازم و ملزوم ہیں اور عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جمہوریت کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں اور آمریت کے تماشوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہی۔‘

نواز شریف نے کہا کہ قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کی معاشی حالت ناقابل یقین حد تک خراب ہے اور کھربوں روپے کی ادائیگیاں سر پر ہیں لیکن وہ یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان کی قسمت بدلنے کے لیے وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ حقیقی تبدیلی کے لیے لوڈ شیڈنگ سمیت ملکی مسائل کے حل کا جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے لیکن تبدیلی کے اس سفر میں انہیں پارلیمنٹ کا ساتھ چاہیے ہوگا اور اگر تمام سٹیک ہولڈرز مل جائیں تو تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد نواز شریف کو متعدد چیلنجوں کا سامنا ہو گا جن میں کمزور معیشت، عسکریت پسندی اور امریکی ڈرون حملے شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار الیاس خان کہتے ہیں کہ نواز شریف کی اولین ترجیحات میں کمزور معیشت کو بحالی کی راہ پر گامزن کرنا اور سلامتی کی صورتِ حال کو بہتر بنانا ہے، لیکن ان دونوں میدانوں میں انھیں ایسے ماحول میں فوری لیکن مشکل فیصلے کرنا ہوں گے جسے بڑی حد تک فوج کے کنٹرول کرتی ہے۔

مسلم لیگ ن کے ذرائع کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ نئے وزیرِاعظم 24 ارکان سے کم کی کابینہ تشکیل دیں گے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی ساتھ ان پر یہ دباؤ بھی ہو گا کہ وہ باقی صوبوں کو بھی ساتھ لے کر چلیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ کام اس لیے مشکل ہے کہ مسلم لیگ ن کے منتخب شدہ ارکان کی بھاری اکثریت کا تعلق پنجاب سے ہے۔

اسی بارے میں