تقریریں ہو چکیں، اب کام کا وقت ہے: شہباز شریف

Image caption جنگی بنیادوں پر لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرنا ہو گا: نو منتخب وزیرِ اعلیٰ پنجاب

پنجاب اسمبلی نے مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف کو بھاری اکثریت سے قائدِ ایوان منتخب کر لیا ہے۔

انھوں نے 300 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مقابلے پر تحریکِ انصاف کے میاں محمود الرشید نے 34 ووٹ حاصل حاصل کیے۔

شہباز شریف تیسری بار پنجاب کے وزیرِاعلیٰ منتخب ہوئے ہیں۔

انھوں نے تین چوتھائی سے زیادہ کی اکثریت سے ووٹ حاصل کیے ہیں۔ ان کی ووٹوں کی فیصد شرح 82 بنتی ہے۔

پاکستان ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق شہباز شریف نے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے زیادہ ووٹ لینے کا اپنا ہی سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔ اس سے قبل انھوں نے 2008 میں 265 ووٹ حاصل کیے تھے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال نے وزیرِاعلیٰ کے انتخاب کے نتائج کا اعلان کیا۔

نومنتخب وزیرِ اعلیٰ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ہو چکا، تقاریر ہو چکی، اب کام کا وقت ہے۔

انھوں نے تقریر کرتے ہوئے زیادہ توجہ لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر توجہ مرکوز رکھی۔ انھوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہے جس نے معیشت اور زراعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں اٹھنا بند ہو گیا ہے اور برآمدات میں ایک تہائی کی کمی آ گئی ہے، اور برآمدت 15 ارب ڈالر سے کم ہو کر پانچ ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔

میاں شہباز شریف نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم سب کے ساتھ مل کر پنجاب کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کریں گے۔ انھوں نے میاں محمود الرشید کو بھی مبارک باد دی کہ انھیں ایوان نے حزبِ اختلاف کا رہنما منتخب کیا ہے۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ایوان میں حزبِ اقتدار اور اختلاف میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے، اور سب کو مل کر تمام وسائل بروئے کار لا کر جنگی بنیادوں پر لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک اندھیرے ختم نہیں ہوں گے، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

انھوں نے اعلان کیا کہ وہ کسانوں کو شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل فراہم کریں گے۔

نومنتخب وزیرِاعلیٰ پنجاب نے تعلیم اور انصاف کے حصول میں دشواری کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہ آج بھی ہماری کچہریوں اور تھانوں میں انصاف بکتا ہے۔ انھوں نے حزبِ مخالف سے درخواست کی کہ وہ تھانہ اور کچہری کلچر کو بدلنے کے لیے اپنی تجاویز دیں تاکہ ان مسائل سے مل کر نمٹا جا سکے۔

شہباز شریف نے اپنی تقریر کے آخر میں یہ شعر پڑھا:

تیری پسند تیرگی، میری پسند روشنی تو نے دیا بجھا دیا، میں نے دیا جلا دیا

اس موقعے پر میاں محمود الرشید نے شہباز شریف کو ان کے انتخاب پر مبارک باد دی اور صوبے کی بہتری کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات میں تعاون کا یقین دلایا۔

انھوں نے کہا کہ گیارہ مئی کے انتخابات کو شفاف اور آزادنہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے باوجود ہم نے بڑے پیمانے پر احتجاج کی کال نہیں دی تاکہ جمہوریت کے سفر میں رکاوٹ نہ آنے پائے۔

تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر عددی برتری کے باعث حزبِ اختلاف کو بلڈوز کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

اسی بارے میں