کوئٹہ: پانچ افراد ہلاک، پندرہ اہلکار زخمی

Image caption کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کافی عرصے سے خراب ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دو خواتین اور ایک بچے سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن مبین نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں شہر کے مغربی بائی پاس کے علاقے میں مبینہ طور پر شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔

پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علی الصبح ان کی گرفتاری کے لیے وہاں ایک گھر پر چھاپہ مارا۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری دینے کی بجائے اس گھر سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر دستی بم سے حملہ کیا گيا اور فائرنگ کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ اس حملے میں پندرہ اہلکار زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب شدت پسندوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوگیا تو انہوں نے اپنے آپ کو دستی بم سے اڑا لیا۔

ہلاک ہونے والے ایک شخص کی شناخت نصیب اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد ان افراد کی لاشوں کو سول ہسپتال پہنچایا گیا۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق مذہبی شدت پسند تنظیموں سے تھا۔

اسی بارے میں