خیبر پختونخوا: ڈیرہ سو پولیس ناکے ختم

Image caption پشاور میں حکام کے مطابق صوبے کے اکثر شہروں میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ پولیس کے ناکے ختم کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں پولیس نے امن و امان کے قیام کے لیے نئی منصوبہ بندی کی ہے۔ جس کے تحت کئی شہروں میں پولیس کے غیر ضروری ناکے ختم کر دئیے گئے ہیں۔

پشاور میں حکام کے مطابق صوبے کے اکثر شہروں میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ پولیس کے ناکے ختم کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حساس علاقوں میں اعلی معیار کے ایک سو بیس سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

خیبر پختوانخوا میں تشکیل پانے والی تحریک انصاف کی نئی حکومت نے صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیےگزشتہ چند روز کے دوران اعلیٰ حکام کے ساتھ متعدد اجلاس کیے ہیں۔ جس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ پشاور سمیت صوبے کے بیشترً شہروں میں غیر ضروری ناکے اور پولیس چوکیاں ہٹائیں جائیں گی جبکہ آٹھ شہروں میں چورانوے نئے ناکے قائم کیے گئے ہیں۔

پشاور میں سپیرنٹنڈنٹ پولیس سٹی خالد محمود ہمدانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان تبدیلیوں سے سیکیورٹی کو بہتر بنایا گیا ہے اور اکثر مقامات پر جہاں سے ناکے ہٹائے گئے ہیں وہاں پولیس کی موبائل ٹیمیں موجود رہیں گی۔

انھوں نے کہا کہ پشاور شہر اور قبائلی علاقوں کو ملانے والے راستوں پر پولیس موجود رہے گی۔ تاکہ شدت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔

خالد محمود ہمدانی کے مطابق صوبائی محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ پولیس نے شہر میں ایک سو بیس ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے جس سے ٹریفک کی روانی کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔

گزشتہ چند برسوں میں دہشت گردی اور شدت پسندی سے متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا کے بیشتر شہروں میں پولیس سمیت دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کے ناکے اور چوکیوں میں بڑی حد تک اضافہ کر دیا گیا تھا۔جس کے باعث عام افراد کو شدید مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔ اکثر مقامات پر ٹریفک جام ہوتی تھی اور لوگوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پرتا تھا ۔

وزیر اعلی خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے اپنے عہدے کا حلف لینے سے پہلے ذرائع ابلاغ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہاتھا کہ پشاور سمیت صوبے کے بیشتر شہروں میں غیر ضروری ناکے ختم کیے جائیں گے اور عوام کی سہولیات کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی جائے گی۔

وزیر اعلی پرویز خٹک نے ذاتی سیکیورٹی کے لیے تعینات اہلکاروں کی تعداد بھی کم کر دی ہے ۔

پولیس حکام کے مطابق اہم شخصیات کی سیکیورٹی کے لیے تعینات پولیس اہلکاروں کی تعداد کم کرنے کے بعد اب ان اہلکاروں کو جرائم کی بیخ کنی اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

اسی بارے میں