منیر ملک پاکستان کے نئے اٹارنی جنرل مقرر

Image caption منیر ملک کی تقرری کے لیے انہیں سفارش پاکستانی نو منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف نے کی تھی

پاکستان کے صدر صدر آصف علی زرداری نے معروف ماہر قانون اور وکلا تحریک کے سرکردہ رہنما منیر اے ملک کو اٹارنی جنرل آف پاکستان مقرر کردیا ہے۔

اس تقرری کے لیے انہیں سفارش پاکستانی نو منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف نے کی تھی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر منیر اے ملک کو عرفان قادر کی جگہ اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی ایسے ماہر قانون کو اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا ہے جو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے مخالف تصور نہیں ہوتے۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ایسے ماہرین قانون کو اٹارنی جنرل مقرر کیا تھا جو وکلا تحریک کے مخالف رہے۔ ان میں سردار لطیف کھوسہ، پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جسٹس مولوی انوارالحق اور وکلا تحریک کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے جج بننے والے عرفان قادر نمایاں ہیں۔

پاکستان میں اٹارنی جنرل کا عہدہ عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے اور دھیمے مزاج کے منیر اے ملک روشن خیال وکلا میں شمار ہوتے ہیں۔

سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے جب نو مارچ دو ہزار سات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے سے ہٹایا تھا اس وقت منیر اے ملک سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر تھے اور انہوں نے وکلا تحریک کی قیادت کی۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے منیر اے ملک کو عدلیہ کی آزادی اور آئین کی حکمرانی کے لیے کردار ادا کرنے پر دراب پٹیل ایوارڈ سے بھی نواز۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی کے دوران ان کی بارہ مئی کو کراچی میں آمد سے دو روز پہلے منیر اے ملک کے گھر پر فائرنگ بھی کی گئی تھی تاہم وہ محفوظ رہے۔

پنجاب کے شہر فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے منیر اے ملک نے انیس سو چھہتر میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی اور انیس سو چوراسی میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے ۔

جنرل مشرف کے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے دوران منیر اے ملک قید کے دوران شدید علیل ہوگئے تھے۔

وکیل رہنما حامد خان کے پروفیشنل گروپ سے تعلق رکھنے والے منیر اے ملک پاکستان بار کونسل کے رکن کے علاوہ مختلف وکلا تنظیموں کے عہدیدار بھی رہے ہیں۔

منیر اے ملک نے اکتوبر دو ہزار چھ میں سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان کی قیادت میں قائم پروفیشنل گروپ کی طرف سپریم کورٹ کی صدارت کا انتخاب لڑا اور جنرل پرویز مشرف اور سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے حمایت یافتہ امیدوار شکست دی۔

انیس سو اسی میں جب منیر اے ملک کراچی بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری تھے تو جنرل ضیاء الحق کی آمریت کی مخالفت کرنے کی پاداش میں انہیں جیل جانا پڑا۔اس کے بعد انہیں جنرل مشرف کی آمریت کے دوران بھی جیل کاٹنی پڑی۔

منیر اے ملک انیس سو تراسی میں دوبارہ کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر چنے گئے اور ایم آر ڈی یعنی بحالی جمہوریت تحریک میں بھر پور حصہ لیا۔

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی جنرل ضیا الحق کے دور میں وطن واپسی کے وقت منیر اے ملک کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔

منیر اے ملک نے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف تحریک میں حصہ لیا اور سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر کی حیثیت سے ایل ایف او کی مخالفت کی۔

منیر اے ملک وکلا تحریک کے بارے میں ایک انگریزی کتاب ْ ْ ان فنشڈ ایجنڈا ْْ ْْ کے مصنف بھی ہیں۔

اسی بارے میں