مشرف کی ضمانت،ایک مقدمےمیں ہاں دوسرے میں نہ

Image caption جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو گھروں میں نظر بند کردیا تھا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت سے متعلق درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے اُن کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی ہے اور اُنہیں پانچ لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے جبکہ بلوچستان حکومت نے بگٹی قتل کیس کو اسلام آباد منتقل کرنے سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ وہ عدالت میں ملزم کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کے لیے نہیں بلکہ اس مقدمے میں عدالت کی معاونت کرنے کے لیے آئے ہیں۔

یاد رہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے تین نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو اُن کے اہلخانہ سمیت گھروں میں نظر بند کر دیا تھا۔

نظر بندی کے دوران اعلیٰ عدلیہ کے کچھ ججوں نے غیر آئینی قرار دیے جانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا تھا، جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد چیف جسٹس سمیت باقی چند ججوں کی نظر بندی ختم کردی تھی۔

جسٹس محمد ریاض کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق فوجی صدر کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کی۔ اس مقدمے کے تفتیشی افسر مبارک علی نے مقدمے کا نامکمل چالان عدالت میں پیش کیا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں تفتیشی افسر اس مقدمے میں دلچسپی نہیں لے رہے۔

عدالت میں پیش کیے گئے نامکمل چالان میں صرف وکلا کے بیانات کو شامل کیا گیا ہے جس میں اُنہوں نے کہا کہ تین نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اُنہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ اس کے علاوہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد شائع ہونے والی خبروں کو بھی مقدمے کے چالان کا حصہ بنایا گیا تھا۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو ایمرجنسی کے نفاذ کی خبر دینے والے رپورٹر اور ججز کالونی میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی تصاویر شائع کرنے والے فوٹو گرافر کے بیانات ریکارڈ کرنے کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے اہلخانہ کے بیانات ریکارڈ کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔

تاہم تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو اس ضمن میں درخواست بھیجی ہے جس پر ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔

پرویز مشرف کے وکیل الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کے خلاف مقدمہ 2009 میں اُس وقت درج کیا گیا جب وہ ملک میں موجود نہیں تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے حکم پر کیا گیا ہے۔

الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی اُس وقت کی وفاقی حکومت کے کہنے پر لگائی تھی۔

اس مقدمے میں سرکاری وکیل ندیم تابش کا کہنا تھا کہ ملزم نے براہِ راست کسی جج کی نظربندی کے احکامات تو جاری نہیں کیے تھے لیکن ایمرجنسی کے بعد ججوں کو گھروں میں مقید رکھنا بھی ایسے ہی تصور ہوگا جیسے اُن کے احکامات بھی اُس وقت کے فوجی صدر نے دیے تھے۔

اس سے پہلے راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں پرویز مشرف کی ضمانت منظور کرچکی ہے، تاہم کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بُگٹی کے قتل میں سابق فوجی صدر کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔

نواب اکبی بگٹی کیس میں ضمانت مسترد

Image caption بلوچستان حکومت نے بگٹی قتل کیس اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست دائر کی ہے

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف نے عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔منگل کی صبح عدالت نے اسے قبل از وقت قرار دیکر مسترد کر دیا۔

پرویز مشرف بلوچ رہنما نواب بگٹی کے مقدمہ قتل میں نامزد ہیں اور یہ مقدمہ بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر نواب بگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی کی درخواست پر درج ہوا تھا۔

دیگر ملزمان میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ، سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی، سابق وزیر اعلیٰ جام یوسف مرحوم اور سابق صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشروانی شامل ہیں۔

جام یوسف کی وفات کے باعث ان کا نام مقدمہ سے خارج کر دیا گیا جبکہ دیگر کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ ون میں مقدمہ چل رہا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان کی صوبائی حکومت نے صوبے کے سابق وزیراعلیٰ نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمے کو اسلام آباد منتقل کرنے سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اُن کے پاس اس مقدمے کے ملزم جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی سکیورٹی کے انتظامات کے لیے وسائل نہیں ہے لہٰذا اس مقدمے کو راولپنڈی یا اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بھیج دیا جائے۔

اُدھر پرویز مشرف کے وکیل الیاس صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی حکومت کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کوئی بھی مقدمہ کسی دوسرے صوبے میں منتقل کر سکتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اب یہ عدالتوں کا کام ہے کہ وہ بلوچستان حکومت کی طرف سے دائر کی گئی اس درخواست کو قبول کرتی ہے یا اس رد کر دیتی ہے۔

اسی بارے میں