پنجاب کابینہ

Image caption شہباز شریف نے ایک درجن کے زائد نئے چہروں اپنی کابینہ کا حصہ بنایا ہے

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی 21 رکنی کابینہ نے حلف اٹھالیا ہے۔صوبائی کابینہ میں دو خواتین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے نئی صوبائی کابینہ کے ارکان سے حلف لیا۔

شہباز شریف نے ایک درجن کے زائد نئے چہروں کو اپنی کابینہ کا حصہ بنایا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے لاہور سے رکن اسمبلی میاں مجتبیٰ شجاع کو وزیرِ خزانہ بنایا ہے۔اس کے علاوہ ان کے پاس محکمہ ایکسائز کی اضافی ذمہ داری ہوگی۔

میاں مجتبیٰ شجاع میں شہباز شریف کے گذشتہ دور میں ایک بار صوبائی بجٹ پیش کرچکے ہیں۔

سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی رانا مشہود احمدخان کو بھی صوبائی کابینہ میں شامل کیا ہے، جب کہ رانا ثناء اللہ خان کو بلدیات کے ساتھ قانون اور پارلیمانی امور کی وزارت دی گئی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کے قریبی رشتہ دار بلال یاسین کو صوبائی کابینہ کا حصہ بنایا ہے۔ ان کے پاس خوراک کا محکمہ ہوگا۔

بلال یاسین ایک مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں اور دوسری مرتبہ لاہور سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

کابینہ میں شامل دو خواتین میں ذکیہ شاہنواز کو بہبودِ آبادی اور وحیدہ وحیدالدین کو ترقیِ نسواں کی وزارت دی گئی ہے۔

پنجاب اسمبلی میں سابق سپیکر اور قائد حزب اختلاف سعید منہیس کے بیٹے آصف منہیس کو خصوصی تعلیم کا قلم دان سونپا گیا ہے۔

سابق پارلیمانی سیکرٹری خلیل سندھو کو اقلیتی امور کی وزارت کے علاوہ محکمۂ صحت کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

گذشتہ پنجاب اسمبلی میں فاروڈ بلاک کے سرکردہ رہنما میاں عطا مانیکا کو صوبائی وزیر بنادیا گیا ہے۔ ان کے بیت المال کا محکمہ ہوگا۔

صوبائی کابینہ کے ارکان میں ملک ندیم کامران ، راجہ اشفاق سرور، اقبال چنڑ کو شہباز شریف نے دوبارہ اپنی کابینہ میں شامل کیا ہے۔

عبدالوحید، میاں یاور زمان، ڈاکٹر فرخ جاوید، شیر علی خان، کرنل شجاع خانزادہ ،ملک تنویر اسلم، چوہدری شفیق، آصف ملک اور ہارون سلطان بحاری نے بھی صوبائی وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

اسی بارے میں