سوات: طالبان کے بعد لڑکیوں کی تعلیم میں اضافہ

Image caption سکولوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے جس کے وجہ سے سکولوں میں اضافی کمرے بنائے جارہے ہیں:ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر

پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کے زوال کے بعد سکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

حکام کے مطابق اپریل اور مئی کے مہینوں میں سولہ ہزار نئی طالبات نے سوات کے مختلف سکولوں میں داخلہ لیا ہے۔

وادی سوات کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر برائے خواتین دلشاد بیگم نے بی بی سی کو بتایا کہ تعلیم لڑکیوں کی لیے بہت ضروری ہے اور کشیدہ حالات کے خاتمے کے بعد لڑکیوں کے سکولوں میں اندراج میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اپریل اور مئی کے دو مہینوں میں 16 ہزار نئی طالبات سوات کے مختلف سکولوں میں داخل ہوئیں ہیں۔ ان کے مطابق تعداد میں اضافے کی وجہ سے سکولوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے اور سکولوں میں اضافی کمرے بنائے جارہے ہیں۔

سوات میں طالبان کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن کے نتیجے میں طالبان کی علاقے سے بے دخلی کے بعد سکول جانے والی طالبات اب خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں جبکہ خواتین اساتذہ بھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوئی مشکل محسوس نہیں کرتیں۔

ایک سرکاری سکول کی پرنسپل انور سلطانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبانائزیشن کے دوران خواتین ہمت ہار چکی تھیں، کوئی بھی گھر سے نکلنے کے لیے تیار نہیں تھا تاہم کشیدگی کے خاتمے کے بعد اب انہیں سکول جانے میں کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہوتا۔

سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن کے شورش زدہ علاقوں کی بچیاں تعلیمی اداروں کے کھلنے پر انتہائی خوش ہیں۔ طالبات کا کہنا ہیں کہ تعلیم ان کا بنیادی حق ہے کیونکہ یہ مستقبل میں انھیں بحیثیت ماں اپنی ذمہ داریاں بطریقِ احسن نبھانے میں مدد دے گا۔

مینگورہ شہر میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کی دسویں جماعت میں پڑھنے والی ایک طالبہ گلالئی نے بتایا کہ ’میں اس وقت ساتویں کلاس میں پڑھتی تھی جب طالبان نے سوات میں لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کردیےتھے۔‘

گلالئی اس بات پر انتہائی خوش دکھائی دے رہی تھی کہ اب ان کا سکول طالبات سے بھرا ہوتا ہے اور وہ بغیر کسی خوف کے اپنے بہتر مستقبل کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ نئی حکومت سے پْر امید ہیں کہ وہ خواتین کی تعلیم کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائیں گی۔

مینگورہ بازار میں ایک کولڈ شاپ میں کام کرنے والے شخص منور خان نے بتایا کہ ان کی ماہانہ تنخواہ 6000 روپے ہے مگر کم اجرت کے باوجود بھی وہ اپنی دو معصوم بچیوں کو پڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی کے دوران وہ اپنی بچیوں کی تعلیم کے لیے فکر مند رہتے تھے مگر اب وہ مطمئن ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بچیوں کو اس لیے پڑھا رہے ہیں کہ آنے والا وقت تعلیم یافتہ لوگوں کا ہوگا اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کی بچیاں دوسروں سے پیچھے رہے۔

خیال رہے کہ طالبان نے سوات میں حکومتی عملداری کے خاتمے کے بعد لڑکیوں کے تعلیم کو غیر شرعی قرار دے کر اس پر پابندی عائد کی تھی۔ سوات میں شورش کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 401 تعلیمی اداروں کو یا تو بم دھما کوں سے تباہ کر دیا یا نذر آتش کیا۔

سکولوں کی تباہی کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات تعلیم سے محروم ہو گئے تھے تاہم طالبان کے خلاف ہو نے والے ملٹری آپریشن کے نتیجے میں قائم ہونے والے امن کے بعد اب اس علاقے میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔

اسی بارے میں