عوام کے لیے سستے قرضے اور تربیتی سکیمیں

حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے تجویز کردہ بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بعض اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں چھوٹے قرضوں کی سکیموں، تین مرلے کے مکانات کی فراہمی کے علاوہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں دس فیصد اضافہ شامل ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ سابق دور حکومت میں شروع کیے گئے بینیظیر انکم سپورٹ پروگرام کو نہ صرف جاری رکھا جائے گا بلکہ اس کے ذریعے دیے جانے والے ماہانہ مشاہرے کو ایک ہزار روپے سے بڑھا کر بارہ سو روپے کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس سکیم کے لیے مختص رقم کو چالیس ارب سے پڑھا کر پچھہتر ارب کر دیا گیا ہے۔

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق اسحاق ڈار نے بتایا کہ حکومت نے غریب طبقے کے لیے تین مرلہ مکان سکیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت پورے ملک میں سرکاری اراضی پر کم آمدن والے طبقے کو مکانات بنا کر دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ نجی شعبے کی شراکت سے پورے ملک میں رہائشی کالونیاں بنائی جائیں گی جن میں گھروں کی تعمیر کے لیے کم شرح پر قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ صوبہ پنجاب میں شروع کی گئی آشیانہ سکیم کو پورے ملک تک پھیلایا جائے گا۔

وزیرخزانہ نے کم آمدن والے طبقے کے لیے چھوٹے قرضوں کی سکیم (مائیکروفنانس سکیم) شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پندرہ ارب روپے سے شروع کی جانے والی اس سکیم کے تحت دیے گئے قرضے سود سے پاک ہوں گے۔ یہ قرضہ جات بعض غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے تقسیم کیے جائیں گے اور یہ تنظیمیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ یہ قرض وصول کرنے والوں میں پچاس فیصد تعداد خواتین کی ہو۔

وفاقی وزیر خزانہ نے گھروں کی تعمیر کے لیے وزیراعظم ہاؤسنگ فنانس سکیم شروع کرنے کا اعلان کیا جس کے تحت پچاس ہزار افراد کو پندرہ سے پچاس لاکھ مالیت کے گھر بنانے کے لیے آٹھ فیصد مارک اپ کی شرح پر قرض فراہم کیے جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے سرکاری ملازمین کی پنشن میں دس فیصد اضافے اور اس کی کم سے کم حد تین ہزار سے بڑھا کر پانچ ہزار کرنے کا اعلان کیا۔

انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کی جانب سے نوجوانوں کو سہولیات دینے کے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے اس بجٹ میں متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

ان کی تفصیل بتاتے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ایم اے پاس نوجوانوں کو سرکاری اداروں میں ایک سال کی تربیت دینے کے لیے یوتھ ٹریننگ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس تربیت کے دوران ان نوجوانوں کو دس ہزار روپے ماہانہ ادا کیے جائیں گے۔ ’

کم تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے ہنر سیکھنے کا پروگرام، یوتھ سکل پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت نوجوانوں کوسرکاری خرچ پر پچیس مختلف ہنر حاصل کرنے کے لیے چھ ماہ کی تربیت دی جائے گی۔

نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے ایک سے بیس لاکھ روپے تک کے قرضے آٹھ فیصد مارک اپ پر ادا کیے جائیں گے۔ اس سہولت سے پچاس ہزار نوجوان فائدہ اٹھا سکیں گے۔

پورے ملک میں نوجوانوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے تین ارب روپے مختص کیے ہیں۔

اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے ایم اے یا پی ایچ ڈی میں زیرتعلیم نوجوانوں کی فیس حکومت ادا کرے گی۔اس سے پہلے یہ سہولت صوبہ بلوچستان، قبائلی علاقوں اور گلگت بلتستان تک محدود تھی۔

اسی بارے میں