نگراں حکومت کی تقرریاں اور تبادلے منسوخ

Image caption ’نگراں حکو مت کا منڈیٹ تقرریاں اور تبادلے کرنے کا نہیں بلکہ ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا تھا‘ سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے سابق نگراں وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو کے دور میں کی جانے والی چار سو سے زائد تقرریوں اور تبادلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

عدالت نے وفاقی وزیر برائے بجلی و پانی خواجہ آصف کی پیشٹن کو تسلیم کرتے ہوئے نگران حکومت کی جانب کی جانے والی تمام تقرریوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نگران حکومت کا مینڈیٹ صرف شفاف انتخابات کا انعقاد تھا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ان تبادلوں کو ایسے سمجھا جائے جیسے وہ کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔

عدالت نے نئی حکومت کو ان تقرریوں اور تبادلوں کو برقرار رکھنے یا اُن کو ختم کرنے کے لیے پندرہ دن کا وقت دیا ہے جبکہ خود مختار اداروں کے سربراہوں کے تعین کے لیے تین رکنی کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا۔

نگراں حکومت نے صرف بلوچستان میں ایک سو سے زائد سرکاری ملازمین کے تبادلے کیے تھے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت کا مینڈیٹ تقرریاں اور تبادلے کرنے کا نہیں بلکہ ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا تھا۔

چیف جسٹس افتخِار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے رکن قومی اسمبلی اور حال ہی میں وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی کا حلف اُٹھانے والے خوجہ آصف کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست پر فیصلہ سُنایا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نگراں حکومت نے چار سو سے زائد سرکاری ملازمین کی تقرریاں اور تبادلے کیے جس میں اقربا پروی کا عنصر واضح تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ سنہ اُنیس سو چھیانوے سے کہہ رہی ہے کہ اقربا پروری کی بنیاد پر تقرریاں اور تبادلے نہیں ہونے چاہیے لیکن حکومتیں عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کر رہیں۔

سابق نگراں حکومت کے دور میں جن خودمختار اداروں کے سربراہوں کو تبدیل کیا گیا اُن میں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی، سوئی سدرن گیس کمپنی، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، نیشنل فرٹلائزرز، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن، سٹیٹ لائف کارپویشن، پاکستان ٹوئراِزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور پاکستان سافٹ ویر ایکسپورٹ بورڈ شامل ہیں۔

عدالت نے اس عرصے کے دوران وفاقی محتسب کی تعیناتی کو الگ سے سُننے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے سلمان فاروقی کو نگراں وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی محتسب کےعہدے پر تعینات کیا تھا۔ سلمان فاروقی صدر کے سیکرٹر ی جنرل کے عہدے پر فائض رہے ہیں۔

اسی بارے میں