دریائے سوات میں سیلاب، پلوں کو نقصان

Image caption تین سال پہلے بھی سوات میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے تھے

پاکستان کے وادی سوات میں حکام کا کہنا ہے دریائے سوات میں درمیانی درجے کا سلاب آنے سے مختلف علاقوں میں کئی مکانات، رابطہ پل، دوکانیں اور ہوٹل پانی میں بہہ گئے ہیں۔

دریائے سوات میں سیلاب کی وجہ سے بعض جگہوں پر راستے بند ہوگئے ہیں جبکہ کچھ علاقوں سے لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

سوات کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پہاڑوں پر برف پگھل جانے سے دریائے سوات میں درمیانی درجے کا سیلاب آیا ہے جس سے چند علاقوں میں نقصانات کی اطلاعات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وادی کالام میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے جہاں پانچ رابطہ پل پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ بیس کے قریب دوکانیں اور مکانات بھی دریا برد ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ نے مزید نقصان سے بچنے کے لیے مختلف علاقوں میں حفاظتی اور بحالی کا کام شروع کردیا ہے۔

کالام کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ منگل کی شام سے فوج نے دریا کے کنارے واقع تمام ہوٹلوں سے سیاحوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا ہے۔

کالام میں صحافی رحمت الدین نے بتایا کہ کالام اور اتروڑ کے علاقوں میں پانی سڑکوں پر آنے سے بیس کے قریب دوکانوں اور مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بعض علاقوں سے مقامی باشندوں نے گھر بار چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔

ان کے مطابق سیلاب کے مزید خطرے کے پیش نظر منگل سے کالام ار آس پاس کے علاقوں سے سیاح بڑی تعداد میں اپنے گھروں کی طرف واپس روانہ ہو چکے ہیں۔

ادھر سوات کے صدر مقام مینگورہ میں بھی چند علاقوں میں پانی مکانات کے اندر داخل ہونے سے لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سیلاب سے دریائے سوات کے کنارے دونوں جانب واقع زرعی زمینیں اور باغات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

مینگورہ میں صحافی شیرین زداہ کا کہنا ہے کہ دریائے سوات میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے ایوب پل کانجو کو بھی نقصان کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پل بالائی سوات کے سات لاکھ آبادی کو مینگورہ شہر سے ملاتا ہے اور یہاں سے روزانہ ہزراوں گاڑیاں گزرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ نے خوازخیلہ مٹہ پل کو بھی عام ٹریفک کے لیے بند کردیا ہے۔

خیال رہے کہ تین سال پہلے بھی سوات میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے تھے۔ سیلاب کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان اتفراسٹرکچر کو پہنچا تھا جسے تین سال گزرنے کے باوجود مکمل طورپر بحال نہیں کیا جاسکا ہے۔

اسی بارے میں