بلوچستان:لورالائی سے تین ڈاکٹر اغوا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام کے مطابق ضلع لورالائی سے تین ڈاکٹروں سمیت محکمۂ صحت کے پانچ اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

اغوا ہونے والے ڈاکٹروں میں ایم ایس سول ہسپتال لورالائی ڈاکٹر محمد انور، ڈاکٹر ایاز، ڈاکٹر نصراللہ کے علاوہ ایک کلرک اور ایک ڈرائیور شامل ہیں۔

لورالائی انتظامیہ کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اہلکار ایک ایمبولینس میں ژوب کے لیے روانہ ہوئے تھے کہ قلعہ سیف اللہ اور ژوب کے درمیان گزشتہ روز بدھ کو ڈیڑھ بجے کے قریب ان کو اغوا کر لیا گیا۔

اغوا ہونے والے ڈاکٹر بلوچستان کے ایک ممتاز ڈاکٹر پروفیسر حلیم تاج کے خاندان سے تعزیت کے لیے جا رہے تھے جو کہ دو روز قبل فوت ہوئے تھے۔

اہلکار کے مطابق تین اضلاع کے حکام نے ان افراد کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کردی ہیں۔ تاحال ان کے اغوا کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔گزشتہ ماہ چمن کے علاقے سے ایک اور ڈاکٹر مبشر کو اغوا کیا گیا تھا جو کہ تاحال بازیاب نہیں ہوئے۔

اغوا کے ان واقعات نے بلوچستان کے ڈاکٹروں کو ایک مرتبہ پھر تشویش سے دو چار کر دیاہے۔صوبے میں ڈاکٹروں کے اغوا اور ان کے قتل کے واقعات سب سے زیادہ سابق دور حکومت میں ہوئے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر شہزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ’اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بتیس ڈاکٹروں کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا جبکہ28کا قتل ہوا ہے‘۔

بدھ کو بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے علاقے ڈیر ہ مراد جمالی سے ایک سرکاری افسر فیض اللہ ترین کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔