’ٹیکس مراعات میں توسیع ضروری ہے ‘

Image caption ’پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت نے خیبر پختونخواہ کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے‘ ۔ خیبر پختونخوا میں ایوان صنعت و تجارت کے صدر ڈاکٹر محمد یوسف سرور

مرکزی حکومت نے دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا کو دی جانے والی ٹیکس مراعات میں توسیع کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ بعض ٹیکس مراعات کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے تیرہ اضلاع کو ملنے والی ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی ہے، یہ چھوٹ دہشت گردی یا سیلاب سے متاثر اضلاع کو دی گئی تھی۔

خیبر پختونخوا میں ایوان صنعت و تجارت کے مطابق وفاقی حکومت کے اس اقدام سے صوبے میں مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور صنعتیں اور کاروبار بری طرح متاثر ہوں گے۔

حالیہ بجٹ میں مرکز میں قائم پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت نے خیبر پختونخوا کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے۔

خیبر پختونخوا میں ایوان صنعت و تجارت کے صدر ڈاکٹر محمد یوسف سرور نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے کو درپیش حالات میں ٹیکس مراعات کے اس پیکج میں توسیع انتہائی ضروری تھی۔

انھوں نے کہا کہ یہ صوبے کا حق تھا اور اب اس میں توسیع نہ کرنے سے یہاں مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور صنعتیں متاثر ہوں گی۔

سابق دور حکومت میں خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے واقعات کی وجہ سے ابتدائی طور پر تین سال کے لیے کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے انکم ٹیکس چارج نہیں کیا جاتا تھا۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے خیبر پختونخواہ کے لیے اس پیکج کا اعلان کیا تھا لیکن اس میں بعض مراعات گزشتہ سال ہی ختم کر دی گئی تھیں۔

موجودہ بجٹ سے پہلے خیبر پختونخوا کے ایوان صنعت و تجارت نے صوبے کو درپیش حالات کے تناظر میں تجاویز بھیجی تھیں لیکن مرکزی حکومت نے انھیں مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق یوسف سرور کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی کے لیے اس پیکج کا اعلان پانچ سال کے لیے کرنا تھا لیکن ابتداء میں انھوں نے اس کا اعلان تین سال کے لیے کیا اور یہ وعدہ کیا تھا کہ پیکج میں توسیع کردی جائے گی۔

یوسف سرور کے مطابق خیبر پختونخوا سے پیدا ہونے والی تمام اشیاء وفاق کے زیر انتظام ہیں۔ جیسے بجلی، گیس اور تمباکو جبکہ پنجاب سے جو کچھ پیدا ہوتا ہے وہ صوبے کے ہی ماتحت ہے جیسے گندم اور کپاس وغیرہ تو آخر کیوں خیبر پختونخوا کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے۔

ان سے جب پوچھا کہ اس سلسلے میں صوبائی حکومت اب کیا کر سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس مراعات میں تو صوبے کا کوئی کردار نہیں ہے لیکن این ایف سی ایوارڈ کے تحت اب بجلی کی رائلٹی سے ملنے والے فنڈز توانائی کے منصوبوں میں خرچ کرنا ہوں گے کیونکہ اب نئے منصوبے صوبے کی اپنی ملکیت ہوں گے ۔

انھوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کو توانائی پیدا کرنے کے مختلف منصوبوں پر بھر پور انداز میں کام کرنا چاہیے تاکہ صوبہ توانائی میں خود کفیل ہوگا تو اس سے لوگوں میں خوشحالی آئے گی اور صنعتیں بھی اچھی طرح کام کر سکیں گی۔

اسی بارے میں