سرکاری وکیل قتل کیس: ایک ملزم گرفتار

Image caption مقتول چوہدری ذوالفقار جونہی اپنے گھر سے نکلے تو پہلے سے ہی گھات لگائے بیٹھے چار نامعلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھادھند فائرنگ کردی

اسلام آباد پولیس نے سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کے قتل میں ملوث ملزمان میں سے ایک ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کا بیٹا ہے اور اُس کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔

ذرائع کے مطابق ملزم محمد عبداللہ عمر کی گرفتاری خفیہ اداروں کی نشاندہی پر کی گئی تاہم مقامی پولیس اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

ایس پی صدر سرکل جمیل ہاشمی نے بی بی سی کو بتایا کہ وقوعے کے روز ملزم عبداللہ پبلک پراسکیورٹر چوہدری ذوالفقار کے گن مین فرمان کی گولی سے شدید زخمی ہوا تھا اور بعدازاں ملزم کے ساتھی اُسے گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ گولی عبداللہ کی ریڑھ کی ہڈی پر لگی تھی جس کی وجہ سے وہ معذور ہوگئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ملزم مختلف نجی ہسپتالوں میں زیر علاج رہے اور بعدازاں اُنہیں راولپنڈی کے ایک نجی ہسپتال سے گرفتار کر لیا گیا جہاں پر وہ زیر علاج تھے۔

ایس پی صدر سرکل کا کہنا تھا کہ ملزم عبداللہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ایل ایل بی کا طالب علم تھا اور وہ 2012 سے یونیورسٹی نہیں جا رہا تھا۔

پولیس افسر جمیل ہاشمی نے دعویٰ کیا کہ ملزم کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان سے ہے اور وہ کچھ عرصہ سے اس تنظیم کے لیے متحرک تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم محمد عبداللہ عمر کے والد کرنل ریٹائرڈ خالد محمود عباسی بھی اُن فوجی افسران اور اہللکاروں میں شامل تھے جنہیں 2003 میں سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر حملے کے الزام میں کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے والد 2008 میں اپنی سزا پوری ہونے کے بعد رہا ہوئے تھے۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل انسپکٹر اشرف کہوٹ نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ زخمی ہونے کے بعد ملزم کا علاج معالجہ اُن کے والد کرنل ریٹائرڈ خالد محمود عباسی ہی کرواتے رہے ہیں اور اُنہیں اس بات کا علم تھا کہ اُن کا بیٹا پبلک پراسیکیوٹر کے قتل کے واقعے میں ملوث ہیں۔

جب اُن سے پوچھا گیاکہ کیا ملزم کے والد کے خلاف بھی کوئی قانونی کارروائی کی جائے گی تو پولیس انسپکٹر کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ اعلیٰ افسران کریں گے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کی جسمانی حالت ایسی نہیں تھی کہ اُن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے اُن سے تفتیش کی جاتی اس لیے ملزم کو 14 دن کے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس اہلکار کا کہناہے کہ ملزم نے صرف اتنا بتایا ہے کہ اس واردات میں اُس کے ساتھ چار دیگر ملزمان بھی تھے۔ پولیس اس واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی پہلے ہی برآمد کر چکی ہے۔

عبداللہ اس وقت اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں زیر علاج ہیں اور اُن کے کمرے کو سب جیل قرار دے کر کمرے کے باہر پولیس اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔

پولیس کو سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کے قتل کی جگہ پر ایک پمفلٹ بھی ملا تھا جس پر یہ عبارت درج تھی کہ عاشقانِ رسول کو سزا دلوانے والوں کا انجام یہی ہوگا۔

تاہم کسی بھی تنظیم نے چوہدری ذوالفقار کے قتل کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی۔

اسی بارے میں