’رواں ماہ جان کیری پاکستان آئیں گے‘

Image caption جان کیری نے کہا تھا کہ وہ پاکستان مییں نئی حکومت کے اقتدار سنھبالنے کے بعد جلد پاکستان اُن سے ملاقات کریں گے

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔

جان کیری کا وزیر خارجہ کا منصب سنھبالنے کے بعد پاکستان اور بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے۔

اپنے دورہ کے پہلے مرحلے میں جان کیری بھارت جائیں گے۔ جس کے بعد وہ پاکستان میں نئی حکومت کے عہداداروں سے ملاقات کریں گے۔

پاکستان میں نومنتخب حکومت کے وجود میں آنے کے بعد امریکہ کے کسی بھی اعلیٰ عہدیدار کا یہ پہلا دورہ ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ جون کے آخری ہفتے میں امریکی وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ کریں گے ۔

اس سے پہلے جان کیری نے کہا تھا کہ وہ پاکستان مییں نئی حکومت کے اقتدار سنھبالنے کے بعد جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔

پاکستان القاعدہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا پرانا اتحادی ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے، ابیٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور افعانستان سرحد کے قریب پاکستانی چیک پوسٹ پر امریکی حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اُتار چڑھاو کا شکار رہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے باعث عوام میں امریکہ کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ڈرون حملوں کا دفاع کیا تھا۔

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے انتخابات میں کامیابی کے بعد افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے لیے ’بھر پور‘ تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ادھر بھارتی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جان کیری تئیس اور چوبیس جون کو نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ بھارت کے دورے کے موقع پر بات چیت کا اہم موضوع افغانستان ہو گا۔

امریکی صدر اوباما نے 2014 کے اختتام تک افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

فوجوں کے انخلاء کے بعد افغانستان میں امن کے لیے طالبان سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کو تشدد کو ترک کر کے مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے۔

افغانستان میں نیٹو فورسز کے کمانڈر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں اہم پیش رفت ہوئی ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کامیابی دیر پا ہوگی۔

اسی بارے میں