سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ

Image caption نئے مالیاتی سال کے بجٹ پر بحث شروع

قومی اسمبلی نے نئے مالیاتی سال کے بجٹ پر بحث کے دوران وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار نے اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سرکاری ملازموں کی تنخواہوں پر غور کر نے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے ملک کی مالیاتی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اپنی سفارشات مرتب کیں۔

وزیرِ خزانہ نے مطلع کیا کہ کمیٹی نے ساڑھے سات فیصد اضافے کی سفارش کی تھی۔ تاہم حکومت نے فیصلہ کیا کہ اسے بڑھا کر دس فیصد کر دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ پنشنوں میں بھی دس فیصد کا اضافہ کر دیا گیا ہے جب کہ پنشن کی کم از کم حد تین ہزار سے بڑھا کر پانچ ہزار کر دی گئی ہے۔

اس موقعے پر ایوان میں حزبِ اختلاف کے رہنما سید خورشید احمد شاہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا مسلم لیگ ن نے اپنے منشور میں وعدہ کیا تھا کہ کم سے کم تنخواہ کی حد 15 ہزار روپے مقرر کی جائے گی لیکن اس بجٹ میں اس سلسلے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ نئے بجٹ میں عام عوام، کسانوں اور مزدورں کے لیے کوئی ریلیف فراہم نہیں کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ یہ ن لیگ کی نئی حکومت پہلا بجٹ ہے اور اسے عوام دوست اور غریب نواز ہونا چاہیے تھا۔

خورشید شاہ نے تشویش ظاہر کی کہ اس بجٹ میں کیے جانے والے بعض اقدامات سے افراطِ زر میں اضافہ ہو گا، جسے پیپلز پارٹی کی گذشتہ حکومت نے واحد ہندسے تک محدود رکھا تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بجلی کی بل میں چھ روپے اضافے سے غریب عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گا۔

ہائبرڈ کاروں کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ یہ بھی اچھا ہوتا اگر حکومت سائیکلوں پر عائد سیلز ٹیکس بھی ختم کر دیتی تو بہتر تھا، کیوں کہ سائیکل ملک کی غریب طبقے کا 60 فیصد حصہ استعمال کرتا ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کیا کہ حکومت سائیکلوں پر عائد 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس ختم کر دے گی۔

اسی بارے میں