زیارت ریزیڈنسی تباہ، ’انکوائری رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے گی‘

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے پُر فضا مقام زیارت میں واقع پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی رہائش گاہ زیارت ریزیڈنسی کے اطراف چار زوردار دھماکے ہوئے ہیں جن سے لکڑی سے بنی اس عمارت کی دیواروں کے سِوا تمام سامان جل کر تباہ ہوگیا۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اس دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نصیب کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب زیارت ٹاؤن میں قریبی پہاڑیوں سے مسلح حملہ آور بانی پاکستان کے زیرِ استعمال رہنے والی عمارت قائد ریزیڈنسی میں داخل ہوئے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے عمارت میں متعدد بم نصب کرنے کے علاوہ فائرنگ بھی کی جس سے عمارت کی سکیورٹی پر تعینات ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔

انھوں نے بتایا کہ نصب کیے جانے والے چار بم پھٹنے سے زیارت ریزیڈنسی میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں نہ صرف عمارت تباہ ہو گئی بلکہ بانی پاکستان کے زیرِ استعمال جن اشیا کو قومی ورثے کے طور پر محفوظ کیا گیا تھا، وہ بھی جل کر خاکستر ہو گئیں۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ تاہم ریزیڈنسی کی مرکزی عمارت کے قریب واقع لائبریری اور عجائب گھر محفوظ رہے جس میں قائداعظم کے ذاتی استعمال کی اشیا رکھی گئی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ بم ڈسپوزل سکواڈ نے چار بم ناکارہ بھی بنا دیے، جب کہ حملہ آور فرار ہو گئے۔

ریڈیو پاکستان نے مقامی ضلعی پولیس افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملہ آورں نے ریزیڈنسی پر راکٹ بھی فائر کیے۔

زیارت کے شہریوں نے اس حملے کے خلاف ہڑتال کی ہے، اور حملے کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر قومی اسمبلی میں سفیان یوسف اور شازیہ مری کی جانب سے اٹھائے گئے نکتۂ اعتراض پر وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اس واقعے کی تفتیش کا حکم دے دیا گیا ہے اور جلد ہی اس واقعے کی تفصیلی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی جائے گی۔

صدر آصف علی زرداری، وزیرِاعظم نواز شریف، وزیرِاعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک اور دوسرے قومی اور سیاسی رہنماؤں نے اس حملے کے مذمت کی ہے۔

خیال رہے کہ زیارت بلوچستان کا پرفضا سیاحتی مقام ہے اور پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح اپنی وفات سے قبل یہاں مقیم رہے تھے۔

یہ خوبصورت رہائش گاہ سنہ 1892ء کے اوائل میں لکڑی سے تعمیر کی گئی تھی۔ اس دور میں برطانوی حکومت کے افسران وادیِ زیارت کے دورے کے دوران اپنی رہائش کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد سنہ 1948ء میں بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ناساز طبیعت کے باعث یہاں آئے تھے اور انھوں نے اپنی زندگی کے آخری دو ماہ اس رہائش گاہ میں قیام کیا۔

ان کے انتقال کے بعد اس رہائشگ اہ کو ’قائداعظم ریزیڈنسی‘ کے نام سے قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔

زیارت کی وادی بلوچستان کے سیاحتی مقامات میں سے ایک صحت بخش اور پُرفضا مقام ہے۔ ہر سال گرمیوں کا آغاز ہوتے ہی ملک بھر سے سیاحوں کی بہت بڑی تعداد یہاں کا رُخ کرتی ہے۔