کوئٹہ کے قریب سے تین افراد اغوا

پاکستان کےصوبہ بلوچستان میں ایک قبائلی شخصیت کو اغوا کر لیا گیا ہے جو بم دھماکے میں ہلاک ہونے والی اپنی بیٹی کی میت لینے کوئٹہ جا رہے تھے۔

اتوار کو کوئٹہ کے قریب سے قبائلی شخصیت میر مہرا للہ مگسی اور دو دیگر افراد کو اغوا کیا گیا۔

میر مہراللہ مگسی کی بیٹی سونم مگسی یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔

سنیچر کو سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کی بس میں ہونے والے دھماکے میں ان کی بیٹی سونم مگسی بھی ہلاک ہو گئی تھی۔

بیٹی کی میت لینے کے لیے میر مہراللہ مگسی دو دیگر افراد کے ہمراہ اپنے آبائی علاقے جھل مگسی سے کوئٹہ آ رہے تھے کہ کوئٹہ کے قریب مستونگ کے علاقے سے لاپتہ ہوگئے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ انہیں نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے اور ان کے رشتہ داروں نے اغوا کا مقدمہ درج کرایا ہے۔

بلوچستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد اغوا کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تین ڈاکٹروں اور ایک انجینیئر سمیت 16 افراد کو اغوا کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں