’ڈرون حملے رکوانے کے لیے دھمکی نہیں بات چیت کی ضرورت‘

Image caption سرتاج عزیز نے کہا کہ حکومت ڈرون حملوں کوروکنے کے لیے سنجیدگی سے کام کررہی ہے

وزیراعظم پاکستان کے خارجہ امور اور قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ڈرون حملے کو رکوانے کے لیے دھمکی کی پالیسی اپنانے کی بجائے مسئلے کو بات چیت سے حل کرنا چاہیے۔

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈاکٹر شیرین مہر النساء مزاری اور دیگر ارکان اسمبلی کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جوا ب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ڈرون حملے روکنے کے لیے نئی پالیسی بنائی جائے گی۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ حکومت ڈرون حملوں کوروکنے کے لیے سنجیدگی سے کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکہ کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا گیا ہے او ر وہ یہ معاملہ تمام فورمز پر اٹھانے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کا آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ متوقع ہے اور یہ معاملہ ان کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ڈرون حملوں کے بارے میں ایک واضح پالیسی اختیار کی ہے کیونکہ ڈرون حملے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ سرتاج عزیز نے کہاکہ یہ ڈرون حملے ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے منافی ہیں۔

مشیر نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف نے ایوان میں اپنے پہلے خطاب میں واضح الفاظ میں ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس ماہ کی سات تاریخ کوڈرون حملے کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔

پاکستان کی سرزمین پر پچھلے برسوں کے دوران کیے جانے والے حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ

سرتاج عزیز نے کہاکہ یہ ڈرون حملے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے اقوام متحدہ کے مندوب مسعود خان نے سلامتی کونسل میں ڈرون حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب نے کہا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں معصوم شہری اور بچے ہلاک ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے متاثرہ علاقوں میں شدت پسندی کو ہوا ملتی ہے۔ ڈرون حملوں کے باعث انتقامی کارروائیوں کا خطرہ رہتاہے۔

اسی بارے میں