سمگل شدہ گاڑیاں:’ایمنسٹی سکیم غیرقانونی‘

Image caption سکیم بلوچستان میں غیر قانونی گاڑیوں کو قانونی بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی:طارق جہانگیری

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ملک بھر میں سمگل شدہ گاڑیوں کے لیے ایمنسٹی سکیم کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی ایک رکنی بینچ نے بدھ کو مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے ایف بی آر کو حکم دیا کہ ایسی پچاس ہزار گاڑیاں قبضے میں لی جائیں جو اس ایمنسٹی سکیم کے تحت رجسٹر کی گئیں اور ان کی نیلامی کی جائے۔

جسٹس شوکت عزیز نے سمگل شدہ گاڑیوں کے بارے میں ایف بی آر کی ایمنسٹی سکیم ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایف بی آر کو اس سکیم سے 16ارب روپے حاصل ہوئے ہیں۔

عدالت نے ایف بی آر کی جانب سے پانچ مارچ کو جاری کیے گئے ایس آر او کو منسوخ کر دیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے ایمنسٹی سکیم کے خلاف عدالت میں خواجہ سعد سلیم نے درخواست دائر کی تھی۔

اس مقدمے کی سماعی کے دوران درخواست گزار کے وکیل سید جبار اکبر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ ایس آر او کا مقصد درآمد کی گئی گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹیز سے بچا جا سکے۔

وکیل نے مزید کہا کہ اس ایمنسٹی سکیم کے باعث سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایمنسٹی سکیم کے باعث گاڑیوں کی بلیک مارکیٹ بن جائے گی۔

ایف بی آر کے وکیل طارق جہانگیری نے کہا کہ یہ سکیم بلوچستان میں غیر قانونی گاڑیوں کو قانونی بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی۔

اسی بارے میں