بھارت کی لائن آف کنٹرول پرگولہ باری

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی مبینہ گولہ باری کے نتیجے میں ایک نو سال کی بچی ہلاک اور اس کی والدہ سمیت تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

جنوبی ضلع راوالاکوٹ کے ڈپٹی کمشنر سہیل اعظم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی فوج نے بدھ کو بلااشتعال گولہ باری شروع کی۔

انھوں نے کہا کہ یہ گولہ باری مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے شروع ہوئی جو وقفے وقفے سے دوپہر دو بجے تک جاری رہی۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے فائرنگ میں مارٹر اور چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ گولہ باری کے نتیجے میں ایک نو سالہ بچی ہلاک ہوگئی جبکہ اس کی والدہ زخمی ہوئی جو اس وقت اپنے گھر میں موجود تھے۔

اس کے علاوہ کھیتوں میں کام کرنے والے دو نوجوان زخمی ہوئے ہیں۔زخمیوں کو مقامی ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گولہ باری کی وجہ سے مقامی آبادی اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی تھی اور ان علاقوں کی طرف جانے والی سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی۔

لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ پاکستان کی فوج نے بھی جوابی فائرنگ کی ہے یا نہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو بھی اسی سیکٹر میں بھارتی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں ایک عمر رسیدہ خاتون زخمی ہوگئی تھی۔

رواں سال جنوری میں اسی سیکٹر میں بھارت اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان جھٹرپوں کے نتیجے میں تین پاکستانی اور دو بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ایک پاکستانی فوجی قریب ہی واقع تتہ پانی سیکٹر میں ہلاک ہوا تھا۔یہ وہ علاقے ہیں جنہیں ماضی میں پاکستانی اور کشیری شدت پسند وادی میں داخل ہونے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سنہ دو ہزار تین میں متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو اب تک قائم ہے۔

لیکن اس دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں تاہم فائرنگ کا تبادلہ اکثر دونوں ممالک کی فوج کی چوکیوں تک ہی محدود رہا۔

جس کی وجہ سے دونوں اطراف سے کئی فوجی ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں البتہ نو برسوں کے دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر حکام کے مطابق مبینہ فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں دونوں اطراف سے کئی عام شہری ہلاک و زخمی بھی ہوئے۔

بھارت اکثر پاکستان پر عسکریت پسندوں کو تربیت دینے، اسلحہ فراہم کرنے اور انہیں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر بھیجنے کے لیے فائرنگ کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے۔لیکن پاکستان نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے ۔پاکستان کا یہ موقف ہے کہ وہ کشمیریوں کی صرف اخلاقی، سفارتی اور سیاسی مدد کرتا ہے۔

اسی بارے میں