آخر پاکستان کے خدشات کیا ہیں؟

سالوں تک لڑنے جھگڑنے کے بعد امریکہ اور طالبان تو مذاکرات کی میز تک بظاہر پہنچ گئے، لیکن پاکستان اس تناظر میں کہاں کھڑا ہے؟

افغان صدر حامد کرزئی کا حالیہ بیان اور اس پر پاکستانی تشویش بتاتی ہے کہ دونوں ہمسایہ مملک کے تعلقات میں ابھی ’سب اچھا‘ نہیں۔

اسلام آباد میں افغان سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی دوستی کو اب ’پروٹوکول‘ دوستی سے آگے بڑھنا ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ اب وقت ہے اس دوستی کو ’معنی خیز‘ بنانے کا۔ بڑھتی ہوئی افغان بےچینی کا بڑا سبب دبے لفظوں میں وہ توقعات ہیں جو انہیں پاکستان سے ہیں اور وہ پوری نہیں ہو رہی ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟

اس بابت افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان سے تین اہم مطالبات کیے تھے لیکن تینوں پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

مطالبہ نمبر ایک: پاکستان کی قید میں طالبان جن میں اسلامی تحریک کے بانی رکن ملا عبدالغنی برادر کو رہا کیا جائے۔

مطالبہ نمبر دو: دونوں ممالک کے علماء پر مشتمل کانفرنس منعقد کر کے جہاد کے خاتمے اور خودکش حملوں کو غیراسلامی قرار دیا جائے۔

مطالبہ نمبر تین: افغان حکومت کا پیغام طالبان تک پہنچا دیں۔ یعنی بلواسطہ رابطہ کروا دیں۔

تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ ماضی میں بھی اس نے درجنوں طالبان قیدی رہا کیے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بلکہ اکثر رہائی پانے والے دوبارہ میدان جنگ میں طالبان سے جاملے اور دوبارہ کارروائیاں شروع کر دیں۔

اسلام آباد میں سرکاری ذرائع بتاتے ہیں کہ مزید قیدی رہا نہیں کیے جا سکتے کیونکہ ان میں سے ہر کوئی دوبارہ جا کر لڑنے کی بات کرتا ہے، امن مذاکرات میں شرکت کی نہیں۔ ایسے میں مزید رہائیوں کا شاید کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان صدر دراصل وہاں کی حزب اختلاف کی بولی بول رہے ہیں۔

جیسا کہ افغان صدر کے تازہ بیان میں بھی ظاہر تھا کہ وہ اب بھی پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جواب میں پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ تمام ملکی ادارے قومی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی پر یک زبان ہیں۔ نواز شریف کی حکومت سے بھی اسی بابت وہ کوئی زیادہ توقعات وابستہ نہیں کر رہے ہیں۔ ایک افغان اہلکار نے کہا ’مسئلہ نواز شریف نہیں پاکستانی ادارے ہیں‘۔

افغان حکام کے لیے تاہم سب سے بڑی تشویش پاکستان کے شمالی اتحاد سے بڑھتے ہوئے تعلقات ہیں۔ انہیں اس میں بھی کسی تازہ سازش کی بو آ رہی ہے۔ ’ہمیں بتایا جاتا ہے کہ پاکستان ماضی کے زخموں پر مرہم رکھ رہا ہے لیکن بات کچھ زیادہ سنگین ہے۔‘

اس کی وجہ شمالی اتحاد کے بعض رہنماؤں کی پاکستان بغیر اطلاع آمد بتائی جاتی ہے۔ شمالی اتحاد کے ایک رہنما سے جب بغیر اطلاع آمد کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ ’علاج کی غرض سے آیا ہوں‘۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پھر وزارت خارجہ کی گاڑی میں ان کا ائرپورٹ سے روانہ ہونا کیا بتاتا ہے۔ یہ صرف خدشات کو ہی جنم دے سکتا ہے۔ افغان سمجھتے ہیں کہ’پاکستان ریڈ لائنز‘ پار کر رہا تھا۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر پاکستان کے خدشات کیا ہیں، وہ کیوں ایسا کر رہا ہے۔ ’وہ کیوں ناخواندہ طالبان کو پڑھے لکھے افغانوں پر ترجیح دے رہا ہے۔‘

بعض تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ عدم اعتماد کا مسئلہ صرف پاکستانیوں اور افغانوں میں نہیں باقی دو فریق طالبان اور امریکیوں کا بھی ایک دوسرے کی جانب یہی خیال ہے۔ چاروں فریق کوششوں کے باوجود ایک دوسرے کی ’خفیہ گیموں‘ کے بارے میں خدشات دور نہیں کر سکے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ افغانستان نے قطر دفتر کے مسئلے پر ناراض ہو کر امریکہ سے سکیورٹی مذاکرات ملتوی کر دیے ہیں۔

اسی بارے میں