بلوچستان کا 198 ارب کا بجٹ پیش

بلوچستان حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 198 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا ہے جس میں تعلیم اور سماجی شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

جمعرات کی شام کو بجٹ بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پیش کیا۔

بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 43ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کا اندازہ 154ارب روپے ہے۔ بجٹ کا خسارہ سات ارب چورانوے کروڑ روپے ہے۔ خسارے کو پورا کرنے کے لیے بچت اور سادگی کے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

بجٹ گریڈ ایک سے 16کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد جبکہ گریڈ17 اور اس سے اوپر کے ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہےجبکہ پینشن میں 15فیصد اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

صوبے میں امن وامان کے لیے 16ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 16فیصد زیادہ ہیں۔

صوبے میں زراعت کی ترقی کے لیے سرسبز بلوچستان پروگرام شروع کیا جائے گا۔

رواں مالی سال کے بجٹ کے مقابلے میں نئی حکومت نے سماجی شعبوں کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ تعلیم کے لیے34ارب89کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں بیالیس فیصد زیادہ ہیں۔

تین سو نئے پرائمری سکولوں کی تعمیر کے اعلان کے علاوہ صوبے کے پانچ ہزار طلبہ کو ملکی اور بین الاقوامی تعلیمی اداروں میں سکالرشپ دی جـائےگی۔

صوبے کے واحد میڈیکل کالج بولان میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

تین سو نئے پرائمری سکولز تعمیر کیے جائیں گے جس کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

تین سو پرائمری سکولوں کو مِڈل اسکولوں کا درجہ دیا جائے گا۔ اِس مد میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 150مِڈل سکولوں کو ہائی کا درجہ دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کے لیے ایک ارب روپے رکھے گئے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں محکمہ صحت کے لیے 15ارب 23کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے بجٹ کے مقابلے میں 37فیصد زیادہ ہے۔

سماجی شعبوں کی طرح رواں مالی سال کے بجٹ کے مقابلے میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پیداواری شعبوں کی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ محکمۂ زراعت کے لیے 7.870 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ موجودہ مالی سال کے مقابلے میں 30فیصد زیادہ ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے اپنی بجٹ تقریر میں 15نکاتی ترجیحات کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں