جی ایس ٹی کیس: فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی طرف سے جنرل سیلز ٹیکس میں ایک فیصد اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق از خود نوٹس سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اس بارے میں مختصر فیصلہ اکیس جون کو سنایا جائےگا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں حکمرانوں نے جی ایس ٹی میں اضافے کا فیصلہ خود کیا ہے اور اس میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ عدالت کے مطابق یہ پیسہ سرکاری خزانے میں جمع ہونے کی بجائے حکمرانوں کی جیبوں میں جائے گا۔

ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کو عبوری ٹیکس لگانے کی اجازت دے دی گئی تو پھر لوگوں کا پارلیمنٹ سے اعتماد اُٹھ جائے گا اور لوگ پارلیمنٹ کی طرف رجوع نہیں کریں گی جس میں اٹھارہ کروڑ عوام کی نمائندگی موجود ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کی موجودہ حکومت نے اگلےمالی سال کے بجٹ میں جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافے کے بعد اس کو سولہ فیصد سے بڑھا کر سترہ فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی بنا پر پیٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جی ایس ٹی میں اضافے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جنرل سیلز ٹیکس میں اضافے کے بعد قیمتوں میں پندرہ فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے اور قیمتوں میں اضافے کا بھی حکمرانوں نے نوٹس نہیں لیا۔

گُزشتہ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا تھا کہ اشیائے خورد ونوش کی قمیتوں پر جی ایس ٹی میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ پیشگی ٹیکس بھی وصول کر سکتی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت حکومت کو ٹیکس لگانے سے نہیں روک سکتی لیکن اُس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت آئینی اور قانونی طریقہ کار اختیار کرے۔

اُنہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی میں اضافے سے متعلق بجٹ میں تجویز دی گئی تھی اور ابھی بجٹ تجاویز پارلیمنٹ سے منظور بھی نہیں ہوئیں اور پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا۔

آئل اینڈ گیس ریگولیش اتھارٹی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ چونکہ اس بات کا یقین تھا کہ قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں جی ایس ٹی میں اضافے کو منطور کر لیا جائے گا اس لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے وکیل رانا شمیم کا کہنا تھا کہ پندرہ روز میں اوسطاً سوا ارب روپے ٹیکس کی مد میں اکھٹے ہوتے ہیں جس پر جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر ایف بی آر اپنے معاملات درست کر لے تو ہر سال ٹیکس کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں