حکومت میں شامل ہوں یا نہیں؟ ایم کیو ایم کا ریفرینڈم

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے جمعرات کو ریفرینڈم منعقد کروایا جا رہا ہے، جس میں کارکنوں سے یہ رائے طلب کی گئی ہے کہ جماعت کو سندھ کی صوبائی حکومت میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں؟

متحدہ قومی موومنٹ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں پانچ سال وفاقی اور صوبائی حکومت کا حصہ رہی، یہ سلسلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی جاری رہا لیکن حکومت کے آخری ایام میں متحدہ نے علیٰحدگی اختیار کر لی۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بہتر حکمرانی کے فقدان اور عوام کو سہولیات پہچانے میں ناکامی پر پیپلز پارٹی حکومت سے علیٰحدگی اختیار کی گئی تھی۔

موجودہ حکومت میں متحدہ قومی موومنٹ اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے نائن زیرو پہنچ کر ایم کیو ایم کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دی تھی، جس کے بعد ایم کیو ایم نے کارکنوں کی رائے کے بعد فیصلہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس ریفرینڈم کا اہتمام متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر کیا گیا ہے، جس کے لیے کارکن کمپیوٹر پر ہاں یا نہ کی صورت میں اپنی رائے دے سکتے ہیں، جب کہ موبائیل ایس ایم ایس پر بھی رائے کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔

اس سے پہلے متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ’طالبان کا پاکستان چاہیے یا قائد اعظم محمد علی جناح کا؟‘ کے سوال پر ریفرینڈم منعقد کیا تھا۔ تاہم اس کے نتائج سامنے نہیں لائے گئے تھے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے مطابق یہ ریفرنڈم صبح نو سے شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔ عوامی ریفرینڈم کے سلسلے میں ایک بیلٹ پیپر بھی تیار کیا گیا ہے اور عوام کی شرکت لازمی بنانے کے لیے ایم کیوایم کے دفاترمیں خصوصی کیمپس لگائے گئے ہیں۔

ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق پولنگ کاعمل مکمل ہونے کے بعد عوامی رائے کوسامنے رکھ کر فیصلے کااعلان کیا جائے گا۔

اسی بارے میں