سندھ بار کونسل اور بینچ میں اختلافات

پاکستان کے صوبہ سندھ میں بار کونسل کی اپیل پر وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا، کراچی کی سٹی عدالتوں میں مکمل اور ہائی کورٹ میں جزوی ہڑتال کی گئی۔

سندھ بار کونسل نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کے ان ریمارکس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہڑتال کی اپیل کی تھی، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سندھ بار کونسل کے کچھ عناصر نہیں چاہتے کہ کرپشن کا خاتمہ ہو اور یہی عناصر عدلیہ کے خلاف سنگین نوعیت کے الزام عائد کرتے ہیں۔

اس بیان سے پہلے سندھ بار کونسل کے رہنماؤں نے عدلیہ میں بدعنوانی کی شکایت کی تھی اور الزام عائد کیا تھا کہ ہائی کورٹ کے جج بھی اس میں ملوث ہیں۔

وکلا رہنما محمود الحسن نے الزام عائد کیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سیاست کر رہے ہیں، جب وہ سیاست کریں گے تو سب باتیں سامنے آئیں گی۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کرپشن کے الزامات کے بارے میں محمود الحسن کا کہنا تھا کہ یہ بات وہ سپریم کورٹ یا دیگر تین ہائی کورٹس کے بارے میں نہیں کر رہے، جہاں وہ کرپشن دیکھ رہے ہیں اس کی بات کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’جو عدلیہ درست کام کر رہی ہو اس کا تحفظ کرنا چاہیے جو کام غلط کر رہی ہو اس کی نشاندہی کرنی چاہیے‘۔

سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر مصطفیٰ لاکھانی ماتحت عدلیہ میں کرپشن کے معاملے میں بار کونسل کے موقف سے متفق نظر آتے ہیں لیکن اعلیٰ عدلیہ پر الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

مصطفیٰ لاکھانی کے بقول ’ہمارے پاس ایسے کوئی بھی شواہد یا واقعات نہیں ہیں جن کی بنیاد پر ہم یہ الزمامات عائد کرسکیں کہ کوئی جج کرپشن میں ملوث ہو‘۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم بھی ان ججوں میں شامل ہیں جنہیں سنہ 2007 کی ایمرجنسی کے بعد معزول کیا گیا تھا اور وہ عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں آگے آگے رہے۔

موجودہ سنگین الزامات کے بعد کیا بار اور بینچ کی محبت اور قربت ختم ہوگئی ہے؟۔ سینیئر وکیل اور ہائی کورٹ بار کے صدر مصطفیٰ لاکھانی کہتے ہیں کہ یہ رومانس برقرار ہے۔

’ عدلیہ اور وکلا ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں، یہ رومانس ختم نہیں ہوا۔ وکلا یہ نہ سمجھیں کہ چونکہ وہ ججوں اور عدلیہ کی بحالی کا حصہ رہے ہیں اس لیے ہماری ہر جائز اور ناجائز بات ماننی چاہیے‘۔

یاد رہے کہ ماتحت عدلیہ میں ججوں کی بھرتی اور مقدمات کے التوا کے معاملات پر بار اور بینچ کے اختلافات سامنے آئے ہیں۔

وکلا رہنما محمود الحسن نے دعویٰ کیا ہے کہ جب سندھ حکومت نے ججوں کی بھرتی کے اختیارات پبلک سروس کمیشن کو دینے کی کوشش کی تو وکلا کمیونیٹی نے ہی یہ اختیار ان کو دلوایا تھا۔

’ ہم سنہ 2007 سے لیکر سنہ 2013 تک عدلیہ کے ساتھ تھے، لیکن ان ججوں اور عدلیہ کے ساتھ نہیں جو کرپٹ ہیں‘۔

اسی بارے میں