ایم کیو ایم کے رہنما ہلاک، شہر میں کشیدگی

Image caption محمد ساجد قریشی کراچی کے حلقے پی ایس 103 سے منتخب ہوئے تھے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں متحدہ قومی موومنٹ کے رکن صوبائی اسمبلی ساجد قریشی بیٹے سمیت ہلاک ہوگئے ہیں۔

دریں اثناء کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ساجد قریشی کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے رہنما کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ شہر میں کاروباری مراکز بند ہو گئے ہیں اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بہت کم ہو گئی ہے۔

ایس ایس پی عامر فاروقی کا کہنا ہے کہ نارتھ ناظم آباد بلاک ایف میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد جیسے ہی ساجد قریشی مسجد سے باہر نکلے ہیں تو ان پر حملہ کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم پہلے سے ان کے انتظار میں کھڑے تھے اور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس نے علاقے میں ناکہ بندی کر دی ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما کی ہلاکت کے بعد شہر میں کاروباری مراکز بند ہو گئے ہیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے گھروں کا رخ کیا جس کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک جام ہو گیا جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی کم ہو گئی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے تین روز سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ جماعت کے سربراہ الطاف حسین نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کارکنوں سے اپیل کی ہے وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

ایم کیو ایم نے سندھ حکومت میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں جمعرات کو ریفرینڈم کرایا تھا اور جمعہ کو اس کے نتائج کا اعلان کیا جانا تھا لیکن اب نتائج کو روک دیا گیا ہے۔

دریں اثناء کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کے احمد ولی مجیب کو نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کر کے ایم کیو ایم کے رہنما ساجد قریشی کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

ایم کیو ایم کے ہلاک ہونے والے رہنما محمد ساجد قریشی کراچی کے حلقے پی ایس 103 سے منتخب ہوئے تھے، ان کی عمر 53 سال تھی اور پیشے کے لحاظ سے تاجر تھے۔

ساجد قریشی گزشتہ تین سالوں میں ایم کیو ایم کے تیسرے رکن اسمبلی ہیں، جنہیں نشانہ بنایا گیا۔ اس سے پہلے رضا حیدر اور منظر امام کو قتل کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ایک دن پہلے ہی جمعرات کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے سندھ کی حکومت کو ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لیے ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر صوبائی حکومت ناکام رہی تو وفاقی حکومت اقدامات کرے گی۔

اسی بارے میں