ججز نظر بندی کیس میں پولیس کے بیانات قلمبند

Image caption اس مقدمے کی سماعت 29 جون تک کے لیے ملتوی کر دی گئی

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں تین پولیس اہلکاروں نے بیانات قلمبند کروائے ہیں۔

ان اہلکاروں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ انھوں نے پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ مدعی کی درخواست پر نہیں بلکہ عدالتی حکم کی روشنی میں درج کیا تھا۔

اس مقدمے کے ایک مدعی اسلم گھمن کا کہنا ہے کہ جب تک اُن کی سکیورٹی کے جامع انتظامات نہیں کیے جاتے اُس وقت تک وہ اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروائیں گے۔

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج کوثر عباس زیدی نے اس مقدمے میں اٹھارہ گواہوں کو سمن جاری کیے ہیں جن میں پانچ پولیس اہلکاروں کے علاوہ اسلام آباد کے وکلاء بھی شامل ہیں۔

اس مقدمے کی سماعت چک شہزاد میں واقع ملزم پرویز مشرف کے فارم ہاؤس پر ہوئی جسے اسلام آباد کی انتظامیہ پہلے ہی سب جیل قرار دے چکی ہے۔

اس مقدمے میں پولیس انسپکٹر حاکم خان کے علاوہ دو پولیس اہلکاروں نے بھی اپنے بیانات قلمبند کرائے۔

ان اہلکاروں کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر قانونی رائے کے لیے اُسے

پراسیکیوشن برانچ بھجوا دیا گیا تھا تاہم عدالتی احکامات کی روشنی میں پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جبکہ اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کا اضافہ بھی عدالت کے حکم پر کیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس مقدمے میں سرکاری گواہوں اور بلخصوص وکلاء نے سکیورٹی سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے وہ جمعہ کو عدالتی کارروائی میں شریک نہیں ہوئے۔

اس مقدمے میں سرکاری وکیل عامر ندیم تابش نے اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ اُنھیں بھی اس مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے سکیورٹی سے متعلق شدید خدشات ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس نے ان کی حفاظت کے لیے محض ایک اہلکار فراہم کیا ہے اور اس مقدمے کی پیروی کے دن سکیورٹی کے ساتھ ساتھ پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا۔

اس مقدمے کے مدعی اسلم گھمن ایڈووکیٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انھیں سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے چیف سکیورٹی افسر کرنل ریٹائرڈ محمد الیاس کی جانب سے اس مقدمے کی پیروی کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے جبکہ متعلقہ تھانے میں بھی اس کے خلاف درخواست دی گئی ہے۔

اسلم گھمن نے کہا کہ جب تک اُن کی سکیورٹی کے مناسب اقدامات نہیں کیے جاتے وہ اس مقدمے میں اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروائیں گے۔

اسی بارے میں