پاکستان کی ’دہشت گردی‘ کے افغان الزامات کی پھر تردید

Image caption پاکستانی سفیر نے کہا کہ حکومت سنبھالنے کے بعد پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعلان کیا

پاکستان نے افغانستان کے اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں اور ملک میں کچھ عناصر دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے افغانستان کے سفیر ظاہر تنین کی طرف سے جمعرات کو سکیورٹی کونسل میں بحث کے دوران پاکستان پر لگائے گئے الزام کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے ’خطرناک‘ اور ’بری سفارت کاری‘ قرار دیا۔

مسعود خان نے کہا کہ ’دہشت گرد‘ پاک افغان سرحد کے جہاں سے باآسانی آیا جایا سکتا ہے دونوں طرف کارروائیاں کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ’پاکستان پر کیے جانے والے بہت سے حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین پر کی جاتی ہے اس لیے ہمیں پاک افغان سرحد کی سختی سے نگرانی کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ میں افغانستان کے سفیر ظاہر تنین نے کہا تھا کہ افغان عوام دہشت گردی کا اصل شکار ہیں اور’ جب تک پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں اور جب تک پاکستان میں بعض عناصر دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں، امن قائم نہیں ہوگا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں بحث کے دوران پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام اسلام آباد کے خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نو منتخب حکومت افغانستان میں قیامِ امن کے عمل کی کوششوں کی مکمل طور حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سنبھالنے کے بعد پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعلان کیا۔

خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان ماضی میں بھی ایک دوسرے پر ’دہشت گردوں کی پناہ گاہوں‘ کی موجودگی کے الزامات لگاتے رہے ہیں جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی رہتی ہے۔

گذشتہ مارچ کے آخری ہفتے میں پاکستان نے افغانستان کے علاقوں کنڑ اور نورستان میں تحریک طالبان پاکستان کے محفوظ ٹھکانوں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی تھی۔

اس سے قبل افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ایمل فیضی نے بی بی سی پشتو کو ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ پاکستان شدت پسندوں کو دی جانے والی مدد سے توجہ ہٹانے کے لیے اس قسم کے الزامات افغانستان پر لگا رہا ہے۔

صدارتی ترجمان ایمل فیضی نے کہا تھا کہ ’ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب جو حالات سامنے آئے ہیں، اس وجہ سے دہشت گرد گروہ موجود ہیں اور دونوں ممالک کے عوام پر حملے کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کی غلط سیاست کی وجہ سے ہے کہ گذشتہ سالوں کے دوران دہشت گرد اور شدت پسند گروہوں کو افغانستان اور بھارت کے خلاف خطے میں اپنی خارجی سیاست کے ایک وسیلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اب پاکستان سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کون ایسے حالات سامنے لانے کا سبب بنا۔‘

اسی بارے میں