کالام میں سیاحت کے فروغ کے لیے میلہ

Image caption ہم سال بھر اس سیزن کا انتظار کرتے ہیں: مقامی دوکاندار

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی وادی کالام میں سیاحت کے فروغ کے لیے چار روزہ میلہ شروع ہو گیا ہے۔

سمر فیسٹیول کا انعقاد صوبائی حکومت اور پاکستان فوج نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔

وادی کالام میں سیاحت کی حوصلہ افزائی کے لیے 23 جون تک جاری رہنے والے اس میلے میں پیراگلائیڈنگ، گھڑ سواری، نیزہ بازی، کشتی رانی اور دیگر مقابلوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

صوبہ خیبر پختنوخوا کے گورنر شوکت اللہ نے میلے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ’کالام میلے کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں اب معمول کی زندگی بحال ہو گئی ہے‘۔

میلے میں شرکت کے لیے لاہور سے آنے والی سیاح نسیم کے مطابق وہ پہلی بار سوات آئی ہیں اور یہاں آنے سے پہلے ان کے ذہن میں امن و امان کے حوالے سے کافی خدشات تھے لیکن آنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں مکمل امن ہے۔

تاہم میلے میں شرکت کرنے والے سیاح کالام روڑ کی خستہ حالی پر کافی پریشان دکھائی دے رہے تھے۔

میلے کے دوران ہر رات مقامی اور ملکی سطح کے فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد رات گئے تک لطف اندوز ہوتی ہے۔

کالام کے ایک تاجر کے بقول وادی میں صرف گرمیوں کے تین سے چار ماہ تک ان کا کاروبار چلتا ہے اور سردیوں کے آغاز پر کاروبار ختم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد سال بھر دوبارہ موسم گرما کے سیزن کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

مینگورہ شہر سے تعلق رکھنے والے ایک دکاندار نادر شاہ نے صحافی انور شاہ کو بتایا کہ سوات کی معیشت کا انحصار سیاحت پر ہے۔

ان کا کہنا تھا ’جتنے زیادہ تعداد میں سیاح آئیں گے اتنا ہی ان کا روزگار اچھا ہوگا اور یہاں کے لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہوگی‘۔

سوات کے علاقے مٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ناصر خان نے بتایا کہ امن کی بحالی پر وہ انتہائی خوش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب طالبان نے اپنی عملداری کے بعد موسیقی پر پابندی عائد کی تھی تب وہ رات کو اپنے گھر میں موبائل فون پرگانے سنتے تھے مگر آج بغیر کسی خوف کے وہ کالام میں مقامی اور غیر مقامی گلوکاروں اور فنکاروں کے گیت سن رہے ہیں۔

میلے میں مقامی مصنوعات کے سٹال بھی لگائے گئے ہیں اور ان میں سیاح خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں