’اداکارہ بشریٰ پر تیزاب سے حملے‘

فائل فوٹو
Image caption دو ہزار گیارہ میں پارلیمنٹ نے تیزاب پھیکنے والوں کی سزاؤں کو سخت کرنے کا قانون منظور کیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر نوشہرہ میں پشتو اداکارہ بشریٰ پر جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو نامعلوم افراد نے تیزاب پھینک دیا جس سے وہ بری طرح جھلس گئیں۔

فرانسیسی خبر راسں ایجنسی اے ایف پی سے بشریٰ کے بھائی پرویز خان نے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نوشہرہ کے علاقے پبی میں اٹھارہ سالہ پشتو اداکارہ بشریٰ کے گھر رات تین بجے نامعلوم افراد داخل ہوئے اور اُن پر تیزاب پھینک دیا جس کے نیتجے میں وہ بری طرح جھلس گئیں۔

بشریٰ کے بھائی پرویز خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

بشریٰ گزشتہ دو سالوں سے اداکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور ٹی وی ڈراموں، فلموں اور سٹیج پر کام کرچکی ہیں۔

یاد رہے کہ دو ہزار گیارہ میں پارلیمنٹ نے تیزاب پھیکنے والوں کی سزاؤں کو سخت کرنے کا قانون منظور کیا تھا۔

تیزاب پھیکنے کی کم سے کم سزا چودہ سال کردی گئی، دس لاکھ روپے جرمانہ اور مجرم کی جائیداد کی ضبطی بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ تیزاب پھیکنے والوں کو حملے سے ضائع ہونے والے اعضا کا معاوضہ بھی دینا ہوگا۔

تاہم غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق قانون کی منظوری کے ایک برس بعد خواتین پر تیزاب کے حملوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دو ہزار گیارہ میں تیزاب حملوں کے چوالیس کیس رپورٹ ہوئے تھے لیکن دو ہزار بارہ میں ان کی تعداد تراسی ہو گئی۔

اسی بارے میں