کچھ تصویریں ’مُشرکی‘ پاکستان کی

کل ہی میں انٹرنیٹ پر پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کے مغرب زدہ ’مُشرکی‘ پاکستان کے بدعقیدہ سماج کی تصاویر دیکھ رہا تھا۔ عقل دنگ رہ گئی کہ یہ معاشرہ کس قدر پستی میں پڑا ہوا تھا۔

ایک تصویر میں سلیو لیس جمپر سوٹ پہنے دو پاکستانی لڑکیاں دوپٹے کے بغیر پنڈی کے مال روڈ پر بے فکر ہنستی ہوئی چلی جا رہی ہیں اور راہگیر ان کی دیدہ دلیرانہ بے حیائی کا نوٹس لینے کے بجائے اپنے حال میں مست ہیں۔

ایک تصویر میں جہلم شہر کے بھرے بازار میں ایک گورا اور ایک لانگ سکرٹ اور کرتا پہنی گوری راستہ پوچھ رہے ہیں اور مقامی لوگ نفرت سے منہ موڑنے کے بجائے انہیں راستہ بتا بھی رہے ہیں۔ (حالانکہ اس وقت برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مصر پر حملہ کردیا تھا)۔

ایک تصویر ہاکس بے کے ساحل کی تھی جہاں ہِپی لوگ ریت پر بیٹھے اور لیٹے دھوپ تاپ رہے ہیں اور اونٹ اور گھوڑے والے اکڑوں بیٹھے ان کے ساتھ تاش کھیل رہے ہیں۔(حالانکہ اس وقت بھی برطانیہ عالمِ اسلام کے کٹھ پتلی آمروں کو عوام کچل ہتھیار دے رہا تھا)۔

ایک تصویر جیکب آباد کی تھی جس میں ایک گوری میم کے سر پر مقامی لوگ بالٹی بھر ٹھنڈا پانی ڈال رہے ہیں کیونکہ یہ میم کوئٹہ سے لاہور کے سفر کے دوران شدید گرمی سے بے حال ہوگئی تھی۔(حالانکہ اس وقت بھی اسرائیل فلسطینیوں پر مظالم توڑ رہا تھا)۔

ایک تصویر طورخم کی تھی۔ سرحدی زنجیر پر سے گوروں اور گوریوں سے بھری ایک کھلی چھت والی کار گذر رہی ہے اور اس کار کے مسافر باوردی سرحدی محافظوں کو کینڈیز پیش کررہے ہیں اور محافظ ہنستے ہوئے یہ کینڈیز قبول بھی کررہے ہیں۔(حالانکہ اس وقت الجزائر کے مسلمانوں پر فرانسیسی نوآبادیاتی حکومت نے عرصہِ حیات تنگ کررکھا تھا)۔

ایک تصویر موہن جو دڑو کی تھی۔سٹوپا کے سائے میں کچھ گول مٹول سے سکولی بچے شرارتی موڈ میں اجتماعی تصویر کھنچوا رہے ہیں ۔جانے چینی بچے تھے کہ جاپانی یا کوریائی۔( جو بھی تھے غالباً ملحدین یا بت پرستوں کے بچے تھے)۔

ایک تصویر لاہور کے شالامار باغ کی تھی جس میں کچھ افریقی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں لاچے پہنے ایک دیسی ڈھولچی کی تھاپ پر دائرے میں مست ناچ رہے ہیں۔ (حالانکہ اس وقت ایتھوپیا کا عیسائی بادشاہ ہائلے سلاسی اریٹیریا کے مسلمانوں کو غلام بنائے ہوئے تھا)۔

ایک تصویر میں کالا انجن لنڈی کوتل سے پشاور کی ٹرین کھینچ رہا ہے اور انجن کے اگلے حصے پر ایک گوری اور تین گورے کھڑے درہِ خیبر کو حیرت سے تک رہے ہیں۔ایک اور گورا پچھلی بوگی کی کھڑکی سے آدھا باہر لٹک کر تصویریں کھینچ رہا ہے۔( جانے یہ گورے گوریاں کسی ناٹو ملک کے تھے یا کیمونسٹ)۔

ایک تصویر چاند پر اترنے والے پہلے انسان نیل آرم سٹرونگ کی تھی ۔وہ ایک کھلی چھت کی گاڑی میں جلوس کی صورت کراچی کی کسی مرکزی شاہراہ سے گذر رہا ہے۔اور دورویہ کھڑے لوگ ہاتھ ہلا رہے ہیں۔(حالانکہ اس وقت بھی امریکہ اسرائیل کا ایک نمبر پشت پناہ تھا)۔

ایک تصویر تخت بائی کے کھنڈرات کی تھی جہاں جاپانی سیاحوں کا ایک گروہ اپنے گائیڈ کی بات دھیان سے سن رہا ہے۔سب سیاحوں نے شلوار قمیض اور چارسدہ چپل پہنے ہوئے ہیں اور مقامی نوجوان باریش گائیڈ ٹی شرٹ اور پتلون میں ہے۔(اگر یہ گائیڈ زندہ ہے تو جانے آج کیا سوچتا ہوگا۔مرگیا تو جانے مرنے سے پہلے اس نے توبہ کی یا نہیں)۔

رسولِ اکرم جب بھی مہم بھیجتے تھے تو لشکریوں کو ضرور تاکید فرماتے تھے کہ خبردار نہتوں ، عورتوں اور بچوں پر ہاتھ مت اٹھانا ۔درخت مت کاٹنا ۔اجنبیوں سے مہربانی سے پیش آنا ۔۔۔۔

انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔۔۔۔۔

اسی بارے میں