گلگت بلتستان: دس غیر ملکیوں سمیت گیارہ سیاح ہلاک

Image caption وزیرِعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے بھی سکیورٹی اداروں کا اجلاس طلب کر لیا ہے

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں نانگا پربت بیس کیمپ میں حکام کے مطابق دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ضلع دیامر کے صدر مقام چلاس کے قریب بونردیامروی نانگا پربت بیس کیمپ میں پیش آیا۔

ہلاک ہونے والے دس غیر ملکی سیاحوں کی لاشیں اسلام آباد لائی گئی ہیں۔ ان میں چار افراد کی شناخت کی جا چکی ہے جبکہ دیگر چھ کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

ضلع دیامر کے ڈپٹی کمشنر محمد جمال بھٹی نے اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار ذولفقار علی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فوسرز علاقے میں حملہ آوروں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق گلگت سکاؤٹس کی وردیوں میں ملبوس تقریباً بارہ مسلح حملہ آوروں نے نصف شب کو ایک مقامی ہوٹل کے اندر گھس کر حملہ کیا۔ ہلاک ہونے والوں میں یوکرائن، چین، امریکہ اور روس کے شہری شامل ہیں۔

گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ عطاء الرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دس غیر ملکی سیاحوں میں سے چار کی شناخت ہو گئی ہے جن میں سے دو کا تعلق چین سے ہے جبکہ ایک نیپالی اور ایک چینی نژاد امریکی ہے۔

تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

گلگت بلتستان حکومت کی سیاحت اور ثقافت کی مشیر سعدیہ دانی نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاحوں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور گلگت بلتستان میں موجود سیاحوں کی نقل و حرکت پر صرف آج کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو فون کر کے بتایا کہ یہ حملہ اس علاقے میں ان کے ذیلی گروپ جنودِ حفصہ نے کیا ہے جس کا مقصد ڈرون حملوں کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانا ہے۔

دوسری جانب وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے سیاحوں میں تین کا تعلق چین، ایک کا تعلق روس، پانچ کا تعلق یوکرائن اور دو کا تعلق پاکستان سے ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو معطل کر کے کارروائی شروع دی گئی ہے۔

Image caption ٹوئر آپریٹر ایسوسی ایشن کے نائب صدر ایاز شگری نے بی بی سی کو بتایا کہ گلگت بلتستان کی معیشت کا دارمدار سیاحت پر ہے

انھوں نے سکیورٹی اداروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خود سے کام نہیں کرتے اور جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو تب ہی حرکت میں آتے ہیں۔

پاکستان کی قومی اسمبلی نے سیاحوں کو قتل کرنے کے واقعے کی مذمتی قرار داد بھی منظور کی جسے تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے پیش کیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے گلگت رینج کے ڈی آئی جی علی شیر کے حوالے سے بتایا تھا کہ حملہ آور ہوٹل میں فائرنگ کر کے وہاں سے بھاگ نکلے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے مقامی پولیس افسر برکت علی کے حوالے سے بتایا تھا کہ انھیں اس واقعے کا اس وقت پتہ چلا جب ان سیاحوں کے مقامی گائیڈ نے رات کو تقریباً گیارہ بجے اس واقعے کے متعلق اطلاع دینے کے لیے پولیس سٹیشن ٹیلی فون کیا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ سیاح کوہِ پیمائی کا ارادہ رکھتے تھے یا صرف سیاحت کے لیے بیس کیمپ گئے تھے۔

گلگت بلتستان حکومت کی سیاحت اور ثقافت کی مشیر سعدیہ دانی نے بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر نانگا پربت سر کرنے کی مہم میں شامل دیگر کوہ پیماؤں کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے علاقہ سے باہر نکلا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ علاقے میں ابھی مزید بیس سے پچیس کوہ پیما موجود ہیں۔

پاکستان کی سرکاری ٹی وی سٹیشن پی ٹی وی کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیا جبکہ اے ایس پی دیامر کی قیادت میں ٹیم اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

وزیرِعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے بھی سکیورٹی اداروں کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

گلگت بلتستان کی سرحد چین اور کشمیر سے ملتی ہے۔ اس علاقے کو نسبتاً محفوظ تصور کیا جاتا تھا لیکن حالیہ برسوں میں یہاں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو بھی شدت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر گلگت بلتستان میں ٹوئر آپریٹر کی تنظیم نے غیر ملکی سیاحوں پر حملے کی مذمت کی اور گلگت شہر میں مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں سیاحت کی صنعت سے وابستہ سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے حملہ آوروں کو سخت سزا دینے اور غیر ملکی سیاحوں کی سکیورٹی بڑھانےکا مطالبہ کیا ہے۔

ٹوئر آپریٹر ایسوسی ایشن کے نائب صدر ایاز شگری نے بی بی سی کو بتایا کہ گلگت بلتستان کی معیشت کا دارمدار سیاحت پر ہے اور ایسے حملوں سے سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہو گی۔

انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیاحت کی صنعت کے تحفظ کے لیے مستقبل میں ایسے حملوں کے صدباب کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔