مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ

Image caption وزیر اعظم نواز شریف نے پیر کو قومی اسمبلی میں مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کا اعلان کیا

پاکستان میں اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف فوجی عدالت میں ٹرائل کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے جب کسی سابق فور سٹار جرنیل کو آئین پامال کرنے پر عام عدالت یعنی سویلین کورٹ میں مقدمہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ماضی میں ٹو یا تھری سٹار جرنیلوں کے خلاف بغاوت اور دیگر الزامات میں ٹرائل فوج کی اپنی ہی عدالتوں میں کیا گیا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے پیر کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف آئین کی دفعہ چھ کے تحت آئین کو توڑنے کے الزام میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا۔

پاکستان میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی سابق فوجی سربراہ کے خلاف جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے اور آئین کو معطل کرنے کے الزام میں کسی جمہوری حکومت نے مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ہو۔

نامہ نگار عباد الحق کے مطابق قیام پاکستان کے بعد جن اعلیٰ فوجی افسروں کو بغاوت جیسے الزامات میں فوجی عدالتوں میں مقدمے کا سامنا رہا ان میں جنرل اکبر، جنرل تجمل حسین، بریگیڈئیر ایف بی علی، جنرل علیم آفریدی، میجر آفتاب اور جنرل ظہیر اسلام عباسی نمایاں ہیں۔

ممتاز قانون دان سینیٹر اعتزاز احسن کے مطابق سابق فوجی افسروں اور جنرل مشرف کے خلاف مقدمے میں صرف اتنا فرق ہے کہ ماضی میں فوجی افسروں کے خلاف محض سازش کے الزام میں مقدمات چلے لیکن پرویز مشرف واحد جرنیل ہیں جن پر عملی طور پر آئین توڑنے کے الزام میں مقدمہ چلے گا۔

اعتزاز احسن کے مطابق پرویز مشرف کے خلاف 12 اکتوبر سنہ 1999 کو مارشل لا لگانے کے الزام میں کارروائی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس اقدام کو اس وقت کی پارلیمان نے آئینی تحفظ دیا تھا جبکہ 3 نومبر سنہ 2007 کے اقدام کو پارلیمان نے تحفظ نہیں دیا۔

ماہرین قانون اس بات پر متفق ہیں کہ سابق صدر کے خلاف ٹرائل شروع کرنے سے کوئی پنڈوا بکس نہیں کھولے گا۔

قانون دان سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ سابق آرمی چیف کے خلاف ٹرائل میں زیادہ سویلین لوگ شامل نہیں ہوں گے۔

ان کے بقول ایمرجنسی لگانے کے فیصلے کو براہ راست وضع کرنے اور اس کے اطلاق کرنے والے فوجی اور غیر فوجی افراد کے بارے میں سوال اٹھایا جائے گا۔

بیرسٹر اعتزاز احسن کی رائے ہے کہ سابق صدر کے خلاف مقدمہ میں صرف وہ لوگ شامل ہوں گے جنہوں نے ان کے خلاف یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انہوں نے مشرف کو آئین توڑنے کا مشورہ دیا اور مدد کی۔

پرویز مشرف کے خلاف آئین کی دفعہ چھ کے تحت مقدمہ چلانے کے اعلان سے دو دن پہلے ہی وفاقی کابینہ کے رکن زاہد حامد سے وزارتِ قانون کا قلمدان واپس لے لیا گیا کیونکہ 3 نومبر سنہ 2007 کو جب ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی تو وہ اس وقت وزیرِ قانون تھے۔

زاہد حامد کے خلاف ممکنہ کارروائی کے سوال پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کس کی جانب سے جاری کیا گیا ہے اور کیا اس وقت کے وزیر قانون سے اس کی منظوری لی گئی تھی یا نہیں؟۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف ’ہائی ٹریژن ایکٹ‘ کے تحت مقدمہ چلے گا اور استغاثہ وفاقی حکومت دائر کرے گی اور اس ایکٹ کے تحت عدالت قائم کی جائے گی۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر سینیٹر اعتزاز احسن کے بقول فوج کے سابق سربراہ کے خلاف ’یہ غیر معمولی مقدمہ‘ ہے لیکن اس پر کارروائی عام فوجداری مقدمہ کی طرح ہوگی۔

قانونی ماہرین کے مطابق مشرف کے خلاف آئین کو توڑنے کے مقدمے کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے روبرو ہوگی اور سزا ہونے کی صورت میں وہ پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرسکیں گے۔

آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمر قید ہے اور قانونی ماہرین کے مطابق یہ عدالت کی صوبداید ہے کہ وہ کیا سزا تجویز کرتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرف کے خلاف مقدمہ پر سماعت مکمل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا البتہ سینیٹر اعتزاز احسن کو یہ خدشہ ہے کہ ان کے وکلا تاخیری حربے استعمال کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور جنوبی امریکہ کے ممالک میں ایسے ٹرائل ہوچکے ہیں اور اس سے جمہوریت کمروز نہیں بلکہ مضبوط ہوتی ہے۔

اسی بارے میں