’غیر ملکی سیاحوں کی ہلاکت، تحقیقات میں پیش رفت‘

Image caption ہلاک ہونے والوں میں یوکرائن، چین، امریکہ اور روس کے شہری شامل تھے

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے وزیرِاعلیٰ مہدی علی شاہ نے کہا ہے کہ نانگا پربت میں غیر ملکی سیاحوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

پاکستان کی سرکاری ٹی وی پی ٹی وی نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے حوالے سے بتایا کہ سرچ آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے افراد سے تفتیش جاری ہے اور ایک دو دن میں ملزمان کے نام میڈیا کے سامنے لائیں جائیں گے۔

وزیرِاعلیٰ گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے امن جرگہ کی خدمات بھی لی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں سیاحوں کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔

ادھر پاکستان کے خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق حکومت نے نانگا بربت بیس کے قریب ایک خصوصی سیل بنایا گیا ہے جس کا مقصد سیاحوں کو تحفظ کرنا اور غیر ملکی سیاحوں کو ہلاک کرنے والے ملزمان کو پکڑنا ہے۔

اے پی پی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نانگا بربت کے علاقے میں موجود ملکی و غیرملکی 43 سیاحوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نکال کر گلگت پہنچایا گیا ہے۔ ان سیاحوں میں 19 غیر ملکی اور 24 پاکستانی تھے۔

سنیچر کی رات کو گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں چلاس کے قریب نانگا پربت بیس کیمپ میں دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق گلگت سکاؤٹس کی وردیوں میں ملبوس تقریباً بارہ مسلح حملہ آوروں نے نصف شب کو ایک مقامی ہوٹل کے اندر گھس کر حملہ کیا تھا۔

ہلاک ہونے والوں میں یوکرائن، چین، امریکہ اور روس کے شہری شامل تھے۔ تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔

اسی بارے میں