نواز شریف ’ٹو پوائنٹ او‘

گیارہ مئی کے انتخابات کے بعد ملک کی تمام سیاسی قوتیں جمہوری انتقالِ اقتدار سے خوش ہیں۔

تاہم میاں نواز شریف کو روایتی طور پر دائیں بازو یا کم از کم دائیں جانب رجحان والا سیاستدان مانا جاتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے اُن کی جیت پر کچھ لوگوں نے کہیں بائیں بازو کی سوچ کے مرنے کا سوگ منایا تو کہیں ان کے پچھلے دور کی مجوزہ بارہویں ترمیم یاد کی جس میں ان کے امیرالمومنین بننے کی خواہش جھلکتی تھی۔

ماضی کی ان تلخ یادوں میں ڈوبے لوگوں کے مقابلے میں تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کے مطابق آج کے نواز شریف اور نوے کی دہائی کے نواز شریف میں بہت فرق ہے۔ان کے مطابق اقتدار کے چھن جانے، جلاوطنی اور جیل نے میاں صاحب کی سوچ و شخصیت کو قدرے پختہ اور تحمل مزاج کر دیا ہے۔

لیکن کیا ہمارے پاس ان تجزیوں کو پرکھنے کے لیے کوئی ٹھوس مواد ہے؟

بی بی سی اردو میں ہمارے ساتھی شفیع نقی جامعی مختلف ادوار میں میاں نواز شریف کے ساتھ رابطے میں رہے۔ کئی ملاقاتیں طویل اور غیر رسمی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں میاں صاحب ’جوش میں آ کر جو باتیں کہہ جاتے تھے، اب وہ ہوش میں رہ کر کرتے ہیں۔

’میاں صاحب اب ناپ تول کر بولتے ہیں، سنبھل کر بولتے ہیں، سوچ کر بولتے ہیں۔ یہ سب تو میں نے براہِ راست محسوس کیا، بڑی کفایت شعاری سے وہ الفاظ کا استعمال کرتے ہیں اور اب وہ کسی بات کا سو فیصد یا پانچ سو فیصد ایسا جواب نہیں دیتے جو ان کے گلے کا پھندا بن جائے۔‘

مگر کیا ہمارے نئے نواز شریف ’ٹو پوائنٹ او‘ میں صرف بہتر لفاظی کا کرشمہ ہے۔ میاں صاحب کی انتخابی مہم کے دوران اُن کے قریب رہنے والے ٹی وی پریزینٹر اور صحافی محمد مالک کہتے ہیں کہ معاملہ اس سے کہیں بڑھ چکا ہے۔

’دو تین سیاسی فرق آپ کو بتا دوں۔ پہلے انہوں نے بلوچستان میں اختر مینگل کی حکومت گرائی اور میں تو کہوں گا بڑے ہی بیہودہ انداز میں گرائی۔ لیکن اب اسی بلوچستان میں انھوں نے قوم پرستوں کی حکومت بنائی جبکہ یہ اپنی حکومت بنا سکتے تھے۔ خیبر پختونخوا میں اگر یہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل جاتے تو عمران خان کو باہر رکھ سکتے تھے۔ انھوں نے وہاں بھی عمران خان کا راستہ نہیں روکا اور جو مقبول ترین مینڈیٹ تھا، اس کو موقع دیا۔ یہ بہت بڑا فرق ہے‘۔

’نواز شریف صاحب میں بہت تھوڑا صبر ہوتا تھا۔ پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ابھی تک عدم محاز آرائی کی پالیسی چل رہی ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ان کے بہت سے اختلاف ہوں گے جنرل کیانی سے چونکہ وہ پرویز مشرف کے قریبی ساتھی تھے اور ان کے پیپلز پارٹی کے ساتھ اختلافات ختم کرانے میں مدد گار تھے۔ لیکن وزیراعظم منتخب ہوتے ہی جن اہم شخصیات سے وہ سب سے پہلے ملے اور بریفنگ لی وہ جنرل کیانی تھے۔ باقی تو ظاہر ہے جیسے جیسے وقت گزرے گا تو چیزیں کھلیں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جو ابھی تک ان کے رویوں نے اشارے دیے ہیں کیا وہ ان کے اعمال میں نظر آئیں گے یا نہیں۔‘

دوسری جانب قائداعظم یونیورسٹی سے منسلک سیاسی تجزیہ کار شاہد انور کا کہنا ہے کہ شخصی تجزیے کو اس قدر اہمیت دینا شاید درست نہ ہوگا اور مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ بات زیادہ اچھالی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر شخصی تبدیلی کو ناپنا ہی ہے تو اُس کا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو کسی بیان یا پارٹی قرارداد کے ذریعے واضح طور پر مانا جائے۔

’سپریم کورٹ کے حوالے سے اور اداروں کے درمیان تناؤ کے حوالے سے مسلم لیگ نون کی گذشتہ حکومتوں پر الزامات رہے ہیں لیکن اُن مخصوص اقدامات کے حوالے سے پارٹی قیادت کا کوئی بیان یا پارٹی قرارداد میری نظر میں نہیں ہے جس میں وہ کہیں کہ ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں۔‘

میاں صاحب کی انتخابی مہم کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ ماضی کے اقدامات کو بطور غلطی ماننے کی بجائے پوری مہم میں ایک منظر تیار کیا گیا کہ نوے کی دہائی میں پاکستان مالی خوشحالی کی طرف گامزن تھا اور ایشیئن ٹائیگر بننے کو تھا۔

’تبدیلی ہے تو یہ کہ سیاق و سباق کا فرق ہے، میڈیا مضبوط تر ہے، عدلیہ زیادہ متحرک ہے، اپوزیشن ایک ماحول تیار کر سکتی ہے اور یہ سب باتیں میاں صاحب کی حکومت کو ایک بہتر سمت میں لے جا سکتیں ہیں۔‘

اسی بحث کے دوران ملک کے تیسری بار وزیراعظم بننے والے میاں نواز شریف’ٹو پوائنٹ او‘ قومی اسمبلی میں کھڑے ہوئے اور کہہ ڈالا کہ پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ کیا یہ اعلانِ انتقام ہے یا وفائے آئین و جمہوریت؟ سابق فوجی صدر کے مستقبل پر کیا فوج سے کچھ طے ہوا ہے یا یہ تصادم کا راستہ ثابت ہو گا؟

کیا یہ نئے نواز شریف کی اپنی صلاحیت پر اعتماد ہے یا وہی پرانے نواز شریف کا شاہد آفریدی انداز میں اوپنگ شاٹ؟

اسی بارے میں