’منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ‘

پاکستان میں مختلف غیر سرکاری تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ملک میں نشے کے عادی افراد کی تعداد میں ہر سال چھ لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کچھ عرصے پہلے تک نشے کے عادی افراد خیبر ایجنسی کی سرحد کے قریب کارخانو مارکیٹ کے سامنے دیکھے جاتے تھے لیکن اب یہ اندرون شہر تک پھیل چکے ہیں۔

محمد حیات دس سال سے نشہ کر رہے ہیں۔معاشی مسائل کی وجہ سے وہ ایک ماہر مستری سے اب اندرون شہر میں کچرے سے کاغد چن کر کچھ پیسے کماتے ہیں جس سے وہ اپنا نشہ پورا کرتے ہیں۔ بیوی بچے انہیں چھوڑ کر جا چکے ہیں اور اس کے پاس اب صرف پچھتاوا رہ گیا ہے۔

اب یہ لوگ چرس یا ہیروئن ہی نہیں بلکہ کیمیائی اجزا سے ملاؤٹ شدہ ہیروئن کو نشہ آور ادویات کے ساتھ ملا کر انجیکشن کی صورت میں استعمال کرتے ہیں۔

محمد حیات کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھے ان کے ایک ساتھی محمد عرفان کا کہنا ہے کہ اب انجیکشن میں زیادہ نشہ ہوتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نشے کے عادی افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے سے ان کے بچے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

اندرون پشاور میں گنج بازار کے ایک رہائشی محمد رشید کا کہنا ہے کہ اس ساری صورتحال سے والدین سخت پریشان ہیں۔

محمد رشید کے مطابق کوہاٹی، یکہ توت اور گنج تک لمبی فٹ پاتھ ہر وقت بڑی تعداد میں نشے کے عادی افراد بیٹھے ہوتے ہیں اور ان کے پاس سے گزرنے والے بچے اور نوجوان اس سےاثر لیتے ہیں۔

نشے کے عادی افراد کے علاج اور ان کی بحالی کے لیے سرکاری سطح پر تو کوئی اقدامات نظر نہیں آ رہے لیکن غیر سرکاری تنظیمیں کسی حد تک کوششیں کر رہی ہیں۔

دوست فاؤنڈیشن کی سربراہ پروین اعظم خان کے مطابق ان کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ان کے ادارے میں چار سو پچاس افراد زیرعلاج ہیں جبکہ ہزاروں درخواستیں جمع ہیں جو انتظار میں ہیں کہ کب ان کی باری آتی ہے۔

دوست فاؤنڈیشن میں اس وقت چالیس بچے زیر علاج ہیں۔ ان میں تیرہ سالہ طارق شاہ بھی شام ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ’دوستوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر وہ نشے کے عادی ہوئے لیکن اب وہ تندرست ہیں۔ ابتدا میں جب بڑوں نے سگریٹ پھینکی تو میں نے اٹھا کر پی تو مجھے بہت مزہ آیا پھر آہستہ آہتہ میں دیگر نشہ آور اشیا استعمال کرتا گیا اور آخر کار ہیروئن پینا شروع کر دی تھی۔‘

طارق شاہ کے والد کپٹروں کی سلائی کا کام کرتے ہیں اور طارق شاہ بھی ان کے ساتھ دکان میں کام کرتے تھے۔

پشاور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس خالد محمود ہمدانی کا کہنا ہے کہ پشاور شہر منشیات کی عالمی سطح پر سمگلنگ کے راستے پر واقع ہے اور اس کے لیے پاک افغان سرحد سے لے کر پشاور شہر تک تعینات تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا کام کرنا چاہیے۔

سرکاری سطح پر منشیات کو آگ لگانے کی تقریب سال میں ایک آدھ بار منعقد ہوتی ہے لیکن عملی طور پر منشیات کے انسداد کے لیے کہیں کوئی کام نطر نہیں آتا۔

شہر میں تعلیمی اداروں اور یہاں تک کے انسداد منشیات کے دفاتر کے قریب بھی منشیات کے عادی افراد نشہ کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب تک ان لوگوں کو منشیات دستیاب ہوگی ان لوگوں کی تعداد میں یونہی اضافہ ہوتا رہے گا۔

گزشتہ سال اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں منشیات کی سمگلنگ کے لیے پاکستان دنیا کی سب سے بڑی گزرگاہ ہے۔ رپورٹ میں ادارے کا اندازہ تھا کہ دنیا بھر میں اڑسٹھ ارب ڈالر کی مالیت کی افیون کا سالانہ کاروبار ہوتا ہے جبکہ کم سے کم ستائیس ارب ڈالر کی منشیات افغانستان سے نکلنے کے بعد پاکستان سے گزرتی ہیں۔

پاکستان کے انسداد منشیات کے حکام کے مطابق افغانستان میں پیدا ہونے والی منشیات کو اس کے ٹرانزٹ روٹ کے ذریعے دنیا میں جانے سے روکنے کے لیے دنیا اس کی مدد کرے کیونکہ پاکستان اس مسئلے سے اکیلے نہیں نمٹ سکتا۔