’طالبان نے شیعہ ہونے کی وجہ سے مار دیا‘

علی حسین
Image caption علی حسین اپنے بچے کے ساتھ

طالبان کا کہنا ہے اتوار کو پاکستان کے شمالی علاقے میں دس غیر ملکی کوہ پیماؤں سمیت گیارہ افراد کو طالبان ہی کی ایک شاخ نے نشانہ بنایا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک پاکستانی علی حسین بھی شامل ہے جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کو شیعہ ہونے کی وجہ سے ہلاک کیا گیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار الیاس خان نے غیر ملکیوں کے ساتھ ہلاک ہونے والے پاکستانی باورچی کے خاندان سے بات چیت کی۔

غیر ملکیوں کے ساتھ موجود پانچ مقامی افراد میں سے علی حسین واحد پاکستانی تھے جنہیں دہشت گردوں نے ہلاک کیا جبکہ سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے باقی چار افراد کو چھوڑ دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد کے سر میں گولی ماری گئی۔ مرنے والے غیر ملکیوں میں امریکہ، چین، یوکرائن اور نیپال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما شامل ہیں۔

اٹھائیس سالہ علی حسین کے خاندان کے افراد اور دوستوں کہنا ہے کہ وہ مصروف زندگی گزارتے تھے۔ نانگا پربت اور اس کے اطراف میں کوہ پیمائی کے لیے آنے والوں کے ساتھ کبھی کھبار وہ بحیثیت قلی اور باورچی کام کرتے تھے۔

اتوار کی شب گلگت بلتستان کے علاقے سکردو کے گاؤں میں اُن کی میت پہنچی۔ رشتے داروں کا کہنا ہے کہ علی حسین کے سر اور سینے میں گولیاں ماری گئیں۔

علی حسین کے ایک رشتہ دار علی خان کے مطابق علی حسین کی موت سے اُن کا خاندان تباہ ہو گیا ہے۔ ’وہ محنتی تھا۔اچھے پیسے کماتا تھا اور کامیاب تھا۔‘

بلندی پر سامان لے جانے والے قلی علی حسین بلتستان کے ضلع سکردو کے شمال میں واقع پسماندہ پہاڑی گاؤں کے رہائشی تھے۔ اس علاقے میں نہ تو کوئی سٹرک ہے اور نہ ہی کوئی سکول۔

علی خان نے بتایا ’وہ کامیاب تھا۔ بلندیاں تک سامان لے جانے میں کا ماہر تھا۔ وہ 2010 میں 8 ہزار کلو میٹر کی بلندی پر کے ٹو کے کیمپ فور تک گیا۔‘

علی حسین کے کھانا پکانے کے ہنر نے اُنھیں قلی بھی بنا دیا۔

علی خان نے بتایا ’اُس نے لاہور کے ایک ہوٹل میں اٹھارہ سال کے عمر میں کھانا پکانا سیکھا۔ جس کے بعد اُسے اپنے علاقے کے قریب کوہ پیمائی کی ایک کمپنی میں پہلی نوکری ملی۔‘

علی حسن نے پاکستان کے شمالی علاقے کے مزدوروں کے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے لگے۔ وہ سردیوں میں پنجاب کے علاقے میں کھانا پکانے کا کام کرتے اور موسم گرما میں گلگت بلتستان کے علاقے میں 40 دن کوہ پیمائی کے موسم میں بلندیوں تک سامان لے کر جاتے۔

وہ ہوٹل میں کھانا پکانے کی نوکری سے ماہانہ 80 ڈالر یا پاکستانی آٹھ ہزار روپے کماتے تھے اور شمالی علاقوں میں کوہ پیمائی کے موسم میں اُن کی آمدن تقریباً ستاون ہزار روپے تک ہو جاتی تھی۔ پہاڑی علاقوں کے لحاظ سے یہ مناسب آمدن ہے۔

علی حسین کے والدین نے بہت کم عرصے اُن کے تعلیمی اخراجات برداشت کیے۔ انھیں کھیتوں میں والدین کے ساتھ ہاتھ بٹانے کے لیے سکول کو چھوڑنا پڑا۔

لیکن علی حسین نے اپنے پانچ سال کے عمر کے لڑکے کو انگلش میڈیم سکول میں تعلیم دلوانے کے لیے سخت محنت کر رہے تھے۔

علی خان کہتے ہیں ’اس کے چلے جانے کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ اس کا خاندان سکول کی فیس کا خرچ برداشت کر سکے گا۔‘

علی حسین نے اپنے پسماندگان میں بیوی سمیت، بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ اُن کی سب سے چھوٹی بیٹی صرف آٹھ ماہ کی ہے۔

علی خان کا کہنا ہے ’وہ دو بھائیوں اور چار بہنوں میں سب سے بڑا تھا۔ کوئی بھی بھائی بہن شادی شدہ نہیں ہے۔ وہ اپنے خاندان میں کمانے والا تھا۔ وہ اُسے شدت سے یاد کریں گے۔‘

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مقامی سکیورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس مسلح حملہ آواروں کی تعداد کم از کم پندرہ تھی۔ دہشت گردی کا یہ واقع 4200 میٹر کی بلندی پر ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملہ آور اٹھارہ گھنٹے پیدل یا خچر پر سفر کر کے اس مقام پر پہنچے تھے۔

اسی بارے میں